ایران جنگ کا مکمل خاتمہ اسرائیلی افواج کے لبنان چھوڑنے سے مشروط ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

لبنان پر اسرائیل کے کسی بھی مزید حملے کو ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا: عباس عراقچی
شائع 16 جون 2026 01:56pm

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے، اور جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے واپس نہیں جاتیں جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عباس عراقچی نے منگل کے روز غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس کے مکمل خاتمے کا ایک لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا نہیں کرتیں جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا، جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے کسی بھی مزید حملے کو ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جمعہ کو جنیوا میں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ملیں گے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئیں جبکہ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ابھی مزید مذاکرات ہونا باقی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز فرانس پہنچنے کے بعد جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کے روز جنیوا میں ہونے والی ایک باضابطہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کے تحت اپریل میں اعلان کردہ نازک جنگ بندی میں مزید 60 روز کی توسیع کی جائے گی۔ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ کھول دیا جائے گا، جسے ایران نے فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مؤثر طور پر بند کر دیا تھا۔

ابتدائی معاہدے کے بعد مذاکرات کے اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سمیت دیگر پیچیدہ اور اہم معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔

اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان اس ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی تک عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں، جس کے باعث اس کے تمام نکات واضح نہیں ہو سکے۔

Read Comments