'مائتھوس ایک ہتھیار ہے، اسے قابو میں رکھنا ہوگا': ٹیسٹرز نے خبردار کردیا

ماہرین کے مطابق یہ نظام اتنا طاقتور ہے کہ اس کے استعمال کے لیے اسلحہ لائسنس جیسی سخت اجازت درکار ہونی چاہیے۔
شائع 18 جون 2026 11:28am

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک غیر معمولی پیش رفت اس وقت خبروں کی زینت بن گئی جب امریکی کمپنی اینتھروپک کے دو جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈلز، میتھوس 5 اور فیبل 5، کو ریلیز کے صرف 3 دن بعد ہی معطل کر دیا گیا۔ ان ماڈلز کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ اتنے طاقتور تھے کہ بعض ماہرین نے انہیں ”سپر ہتھیار“ قرار دیا اور ان کے استعمال کے لیے ”اسلحہ لائسنس“ جیسی سخت شرائط کی ضرورت کی بات کی۔

یہ دعویٰ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں سامنے آیا جسے پولی مارکیٹ نے شیئر کیا۔ تاہم، اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو داریو امودی نے یہ بیان کہاں اور کب دیا تھا۔

فیبل 5 دراصل اینتھروپک کے بنیادی ماڈل میتھوس پر مبنی ہے۔ کمپنی نے پہلی بار اپریل میں میتھوس کا تعارف کرایا تھا لیکن اسے عام صارفین کے لیے جاری نہیں کیا گیا تھا کیونکہ خدشہ تھا کہ اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق میتھوس نے مختلف آپریٹنگ سسٹمز اور ویب براؤزرز میں ایسی کمزوریاں دریافت کیں جو کئی برسوں بلکہ بعض صورتوں میں دہائیوں سے پوشیدہ تھیں۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کو سائبر سیکیورٹی کے دفاعی مقاصد کے لیے محدود پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ اسی مقصد کے تحت کمپنی نے ”پروجیکٹ گلاس وِنگ“ کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا جس میں تقریباً 50 منتخب اداروں کو رسائی دی گئی۔ ان اداروں میں گوگل، ایپل، ایمیزون، مائیکروسافٹ اور کراؤڈ اسٹرائیک جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل تھیں۔

کمپنی نے گزشتہ ہفتے میتھوس کا ایک ایسا ورژن جاری کیا جس میں حفاظتی پابندیاں شامل کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں کا مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی صارف سائبر حملوں، حساس انفراسٹرکچر میں مداخلت یا حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری جیسے خطرناک مقاصد کے لیے ماڈل کا استعمال کرنے کی کوشش کرے تو نظام خودکار طور پر کم صلاحیت والے پرانے ماڈل کلاڈ اوپس 4.8 پر منتقل ہو جائے۔

مصنوعی ذہانت ماڈلز کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے ادارے ویلز اے آئی کے مطابق فیبل 5 اپنے بینچ مارک ٹیسٹوں میں عوامی طور پر دستیاب تمام مصنوعی ذہانت ماڈلز میں سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا ماڈل قرار پایا تھا۔

لیکن کہانی میں اصل موڑ اس وقت آیا جب امریکی حکومت نے ملکی سلامتی کو بنیاد بنا کر ایک ہنگامی حکم نامہ جاری کر دیا۔ حکومت نے کمپنی کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ تمام غیر ملکی شہریوں کے لیے، چاہے وہ امریکہ کے اندر ہوں یا باہر، اس ٹیکنالوجی یعنی اپنے دو طاقتور ماڈلز، کلاڈ فیبل 5 اور کلاڈ میتھوس 5 تک رسائی فوراً روک دے۔

حکومت کو خدشہ تھا کہ کوئی اس کی حفاظتی پابندیوں کو توڑ کر سیکیورٹی بائی پاس کر کے اس کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔ یکیورٹی بائی پاس ایک ایسا طریقہ ہے جس سے کمپیوٹر کی لگائی گئی تمام اخلاقی اور قانونی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ وہ باتیں بھی ماننے لگتا ہے جن سے اسے روکا گیا ہوتا ہے۔

اس حکم کا اطلاق امریکا کے اندر اور بیرونِ ملک موجود تمام غیر امریکی افراد پر کیا گیا، چاہے وہ اینتھروپک کے ملازمین ہی کیوں نہ ہوں۔حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کمپنی نے دونوں ماڈلز تک رسائی مکمل طور پر معطل کر دی اور اینتھروپک نے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ اس حکم کے نتیجے میں کمپنی کو اپنے تمام صارفین کے لیے دونوں ٹینکنالوجیز بند کرنا پڑیں تاکہ قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنائی جا سکے۔

یہ معاملہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور ان سے جڑے سیکیورٹی خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے کے چیلنج کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز زیادہ طاقتور ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے ان کے استعمال، نگرانی اور حفاظتی اقدامات سے متعلق سوالات بھی مزید اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

Read Comments