امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں مجوزہ مذاکرات ملتوی، رائٹرز کا دعویٰ

جنگ کے خاتمے کے 14 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مذاکرات ہونے تھے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دورہ بھی منسوخ کر دیا
شائع 19 جون 2026 10:37am

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ میں آج ہونے والے مجوزہ مذاکرات فی الحال نہیں ہوں گے۔ سوئس وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے کے ’رائٹرز‘ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جمعہ کو ہونے والے مذاکرات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے چھوٹے سے گاؤں اوب بورگن میں منعقد ہونا تھے، جہاں دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے طے شدہ 14 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کرنے والے تھے۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں طے کی گئی تھی جب دو روز قبل امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آزادانہ آمدورفت سے متعلق مستقل معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت مقرر کی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کی منسوخی کے باوجود کہا ہے کہ امریکا جلد از جلد تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مذاکراتی عمل کی قیادت کر رہے ہیں، اب سوئٹزرلینڈ نہیں جائیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ”ان مذاکرات کی انتظامی اور سفارتی پیچیدگیاں ہمیشہ غیر متوقع رہی ہیں، اس وقت نائب صدر روانہ نہیں ہو رہے۔“

مذاکرات کی منسوخی اتنی اچانک ہوئی کہ جے ڈی وینس کا عملہ اور صحافیوں کا ایک گروپ واشنگٹن کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز پر روانگی کی تیاری میں موجود تھا، جبکہ متعدد امریکی حکام، میڈیا نمائندے اور انتظامی عملہ پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے تھے۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے بعض تحفظات کے باوجود مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی ہے۔ اسی روز امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی بھی باضابطہ طور پر ختم کر دی۔

تاہم مذاکرات کی منسوخی سے قبل ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران مزید امن مذاکرات سے پہلے امریکا کی جانب سے عبوری معاہدے پر عملی پیش رفت کے شواہد دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ ایرانی وفد کے جنیوا جانے کی بھی کوئی حتمی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

اسی دوران عربی نشریاتی ادارے المیادین نے رپورٹ کیا کہ لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث تہران اپنے وفد کی سوئٹزرلینڈ روانگی میں تاخیر کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل، جو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن عمل کا حصہ نہیں ہے، لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی فوج نے جمعہ کی صبح بھی نئے فضائی حملے کیے اور حزب اللہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کے تین ٹینک تباہ کر دیے ہیں اور جھڑپیں بدستور جاری ہیں، تاہم اسرائیل نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ خطے کے تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کے خواہاں ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ امن عمل کا احترام کرے۔

جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اس بات پر تشویش ہے کہ جب بھی کسی اہم پیش رفت کا امکان پیدا ہوتا ہے، بیروت جیسے شہری علاقوں میں کوئی بڑا دھماکا یا حملہ ہو جاتا ہے جس میں بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”ایسے اقدامات قابل قبول نہیں ہیں۔“

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد قالیباف نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی یا دوسرے فریق نے حد سے تجاوز کیا تو ایران کی جانب سے فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کی اچانک منسوخی نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ آیا خطے میں جاری جنگ کے مستقل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کی کوششیں کامیاب ہو سکیں گی یا نہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم سات ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی توانائی منڈیوں اور مالیاتی بازاروں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک تحریری پیغام میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے یہ معاہدہ ”مجبوری کے تحت“ کیا ہے اور آئندہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی فریق ضرورت سے زیادہ مطالبات کرے گا تو ایران انہیں قبول نہیں کرے گا۔

معاہدے کے تحت فریقین کے پاس ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر اتفاق رائے کے لیے 60 روز ہیں، جبکہ ایران کی تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ اور دیگر مالی مراعات بھی زیر غور ہیں۔

دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے اور جہازوں کی آمدورفت بحال ہو رہی ہے، تاہم امریکی جنگی جہاز بدستور خطے میں موجود رہیں گے۔

اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی شروع ہو چکی ہے، لیکن دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں سے ایک اس آبی راستے پر معمول کی سرگرمیاں ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکیں۔

Read Comments