ایران امریکا معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت بڑھ گئی
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تاہم بحری حکام اور شپنگ کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی خدشات اب بھی برقرار ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے بعد خطے میں بحری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بحری نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق جمعرات کے روز آبنائے ہرمز سے 25 تجارتی جہاز گزرے، جو گزشتہ دو ماہ کے دوران ایک دن میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی اے ایکس ایس میرین کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے وسط کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب آبنائے ہرمز میں اتنی بڑی تعداد میں تجارتی جہازوں نے آمدورفت کی۔ مارچ کے آغاز سے اب تک روزانہ اوسطاً سات کے قریب جہاز اس راستے سے گزر رہے تھے۔
بحری سرگرمیوں میں اضافے کے آثار متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ کورفکان میں بھی دیکھے گئے، جہاں آبنائے ہرمز کے قریب خالی ٹرکوں کی قطاریں کئی کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق متعدد کنٹینر بردار جہاز بندرگاہ پر سامان اتارنے میں مصروف تھے جب کہ دیگر جہاز لنگر انداز ہونے کے انتظار میں سمندر میں موجود تھے۔
آمدورفت میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا نے حال ہی میں جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے تحت اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا۔ تاہم معاہدے کے تحت جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکراتی دور کو بعد میں مؤخر کر دیا گیا۔
اے ایکس ایس میرین نے اپنے بیان میں کہا کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بعض جہازوں نے اپنی نقل و حرکت چھپانے کے لیے ٹریکنگ سسٹم کے سگنلز بند یا تبدیل کر دیے تھے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایرانی فورسز نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ اس عرصے میں بحری حکام نے علاقے میں جہازوں پر درجنوں حملوں کی اطلاعات بھی دی تھیں۔
دوسری جانب عالمی شپنگ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ بحری راستہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم سیکیورٹی صورتِ حال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں اور خلیج سے معمول کے مطابق جہازوں کی روانگی کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ادھر پاکستان نیوی نے جمعے کے روز ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک بحری بارودی سرنگ دیکھی گئی ہے، جس کے باعث بحری جہازوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریں اثنا ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے 60 روزہ معاہدے کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند تمام جہازوں کو کم از کم 48 گھنٹے قبل ٹرانزٹ درخواست جمع کرانا ہوگی۔ اتھارٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ 60 روزہ مدت کے دوران گزرنے والے جہازوں سے بعض ٹیرف اور ایرانی انشورنس فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے مطابق خلیج میں اب بھی 500 سے زائد تجارتی جہاز اور تقریباً 11 ہزار ملاح موجود ہیں، جبکہ جنگ کے باعث مجموعی طور پر 20 ہزار سے زائد ملاح متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا تھا اور توانائی سمیت اہم تجارتی اشیا کی ترسیل متاثر ہوئی تھی۔ تاہم 14 جون کو ایران امریکا معاہدے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
ادھر جنگ بندی معاہدے کا مقصد لبنان میں کشیدگی کا خاتمہ بھی تھا، تاہم اسرائیلی فوج نے جمعے کو لبنان میں نئے حملوں کا اعلان کیا۔ بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور ایران نواز گروپ حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ معاہدے کے بعد مارکیٹوں میں اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے، تاہم لبنان کی صورتحال کے باعث خطے میں پائیدار استحکام کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔