امریکا-ایران تکنیکی مذاکرات آج سوئٹزر لینڈ میں ہوں گے، شہباز شریف کی شرکت متوقع

مذاکرات کے اگلے مرحلے میاں امریکا اور ایران کے علاوہ پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہوں گے
اپ ڈیٹ 20 جون 2026 11:53pm

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل طور پر ختم کرنے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کی کوششوں میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اگلے مرحلے میں تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہوں گے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہبازشریف شریک ہوں گے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری بیان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اگلے مرحلے میں دونوں ملکوں کے نمائندے اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کریں گے۔

بیان کے مطابق اپنے ثالثی کے کردار کو جاری رکھتے ہوئے اس مرحلے میں بھی سہولت فراہم کرتا رہے گا جب کہ مذاکرات میں ایران، امریکا اور پاکستان کے علاوہ قطر کے نمائندے بھی بطور ثالث شریک ہوں گے۔

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے میں فریقین نے 60 دن کے اندر ایک نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ میں اس مذاکراتی بیٹھک کی تیاریاں پہلے ہی مکمل ہو چکی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ملکوں کے نمائندے مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوچکے ہیں۔ امریکی میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ میرا شاید آئندہ  دو روز میں سوئٹزرلینڈ جانا متوقع ہے، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر ایران سے مذاکرات کے لیے وہاں موجود ہوں گے۔

ادھر ایرانی وفد کی قیادت باقر قالیباف کر رہے ہیں، ان کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے عہدیدار علی باقری، ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی بھی وفد میں شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے مذاکراتی وفدکو میناب 168 کا نام دیا گیا ہے۔

روانگی سے قبل ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے اپنی تمام ذمہ داریوں اور وعدوں پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کا پابند ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملے روکنے پر مجبور کرے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اگر دوسرے فریق نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو طے شدہ سمجھوتہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ متعلقہ فریق کو جلد از جلد ضروری اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب جوابی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اہم دورے پر ایران میں موجود ہیں۔ دورے کے دوران انہوں نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کیں۔ محسن نقوی نے مشہد میں امام علی رضاؑ کے روضے پر حاضری بھی دی، جہاں ان کی آمد پر صوبہ خراسان کے گورنر نے استقبال کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں جاری سفارتی پیش رفت اور خطے کی مجموعی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی استحکام سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو کی۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کا یہ دورہ پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت فراہم کرنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ممکنہ ثالثی کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔

Read Comments