میسی کو ریڈ کارڈ: الجیریا نے فیفا کو شکایت درج کرا دی
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ارجنٹینا اور الجزائر کے درمیان کھیلے گئے میچ کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ الجیریا کی فٹ بال فیڈریشن نے میچ کے ریفری کے فیصلوں کے خلاف فٹ بال کی سب سے بڑی تنظیم فیفا کو باقاعدہ شکایت بھیج دی ہے۔ الجیریا کا ماننا ہے کہ میچ کے دوران لیونل میسی کو ایک فاؤل پر ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اس میچ میں ارجنٹینا نے الجیریا کو 0-3 سے ہرا دیا تھا اور ارجنٹینا کے مشہور کھلاڑی لیونل میسی نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہیٹ ٹرک مکمل کی اور اپنی ٹیم کو فتح دلائی۔ تاہم میچ کے بعد سب سے زیادہ بحث میسی اور الجیریا کے کپتان عیسیٰ مندی کے درمیان ہونے والے ایک واقعے پر ہوئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق الجیریا نے فیفا کی ریفری کمیٹی کو خط لکھ کر پولینڈ کے ریفری شیمون مارچینیاک اور ان کی ٹیم کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث شروع ہو گئی کہ کیا اتنے بڑے کھلاڑی کو رعایت دی گئی۔ کچھ شائقین کا خیال تھا کہ یہ ریڈ کارڈ کا واضح کیس تھا، جبکہ دوسرے لوگوں نے کہا کہ ریفری کا فیصلہ درست تھا۔
جنوبی افریقہ کے کوچ ہیوگو بروس نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیا۔ انہوں نے اپنے مڈفیلڈر تھیمبا زوانے کو ٹورنامنٹ میں ملنے والی تین میچوں کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”جب میں میسی والے واقعے کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے کھلاڑی کے ساتھ ہونے والے فیصلے سے اتفاق نہیں ہوتا۔“
انہوں نے مزید کہا،’ ’میں یہ نہیں چاہتا کہ میسی کو میدان سے باہر بھیجا جائے کیونکہ ایسے بڑے کھلاڑیوں کا کھیلنا فٹبال کے لیے اچھا ہے، لیکن میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ دو ایک جیسے واقعات میں الگ الگ فیصلے کیوں کیے گئے۔‘
تنازع کے باوجود میسی نے ہیٹ ٹرک مکمل کی اور ورلڈ کپ میں 16 گول کرنے کے ساتھ جرمنی کے سابق اسٹرائیکر میروسلاو کلوزے کے ریکارڈ کی برابری بھی کر لی۔ اس کامیابی کے باوجود ریفری کے فیصلوں پر ہونے والی بحث میچ کے بعد بھی جاری رہی۔
اب الجیریا کی ٹیم فیفا کے جواب کا انتظار کر رہی ہے اور ان کا اگلا میچ اردن کی ٹیم کے ساتھ ہوگا، جبکہ ارجنٹائن کی ٹیم کا اگلا مقابلہ آسٹریا سے ہوگا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ فیفا اس شکایت پر کیا فیصلہ سناتا ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میسی اور مندی کا یہ واقعہ ورلڈ کپ 2026 کے سب سے زیادہ زیر بحث ریفری فیصلوں میں شامل ہو چکا ہے۔