اسرائیل بار بار لبنان پر حملے کیوں کر رہا ہے؟
اسرائیل اور لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کے درمیان جنوبی لبنان میں جاری مسلسل لڑائی نے اس وقت پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے۔ یہ جنگ اتنی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے کہ اس کی وجہ سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والا ایک بڑا امن معاہدہ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اسرائیل کو لبنان میں حملے روکنے ہوں گے۔ جس پر اسرائیل نے کہا کہ اگر حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے، تو اسرائیل بھی اس پر حملے نہیں کرے گا۔
لیکن یہ حملے رکے نہیں اور ہفتہ کو جنوبی لبنان پر کیے گئے اسرائیلی حملے میں 20 افراد مارے گئے۔ جنوبی لبنان میں جاری اس لڑائی کی وجہ سے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بار بار معطل ہو رہے ہیں، اور اسی کشیدگی کی وجہ سے ایران کی فوج نے سمندری تجارت کے اہم راستے یعنی آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لبنان میں یہ لڑائی آخر ہو کیوں رہی ہے؟
حزب اللہ لبنان کی ایک ایسی تنظیم ہے جس کے پاس مشرقِ وسطیٰ کی سب سے طاقتور فوجوں میں سے ایک فوج ہے اور اسے ایران کی پوری مدد حاصل ہے۔
حزب اللہ 1980 کی دہائی سے قائم ہے اور وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے۔
ایران کی مدد سے حزب اللہ نے اپنے پاس ہزاروں راکٹ، میزائل اور ڈرون جمع کر رکھے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل بھی حزب اللہ کو ختم کرنے کے لیے بار بار حملے کرتا رہا ہے، جیسے 2006 میں ایک بڑی جنگ ہوئی تھی جو ایک مہینے سے زیادہ چلی تھی۔
اس جنگ پر غور کرنے کے لیے جب اسرائیل نے خود اپنے ملک میں ایک آزاد کمیٹی بنا کر جانچ کی تو اس کمیٹی نے کہا کہ یہ اسرائیل کے لیے ایک موقع تھا جسے ضائع کیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق، اسرائیل نے ایک لمبی جنگ شروع تو کی لیکن یہ اسرائیل کی کسی واضح فوجی فتح کے بغیر ہی ختم ہو گئی۔
اس پرانی جنگ کے بعد بھی حزب اللہ قائم رہی اور جب اکتوبر 2023 میں اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی تو حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ فائر کرنا شروع کر دیے۔
ایک سال تک چلنے والی اس لڑائی کے دوران اسرائیل نے حزب اللہ کے دیرینہ سربراہ حسن نصراللہ کو بھی شہید کر دیا۔ اس کے بعد نومبر 2024 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا جس کے تحت اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے واپس جانا تھا، لیکن اسرائیلی فوج مقررہ وقت کے بعد بھی وہیں ڈٹی رہی اور روزانہ حملے کرتی رہی۔ اسرائیل کا الزام تھا کہ حزب اللہ نے معاہدہ توڑا ہے۔
یہ لڑائی اس وقت اور زیادہ بڑھ گئی جب فروری کے آخر میں ایک امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، جس کے جواب میں مارچ کے شروع میں حزب اللہ نے دوبارہ اسرائیل پر حملے شروع کر دیے۔
جواب میں اسرائیل نے لبنان پر اتنے شدید حملے کیے کہ جنوبی لبنان کے زیادہ تر گاؤں خالی ہو گئے اور ہزاروں گھر مٹی کا ڈھیر بن گئے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق دو مارچ سے لے کر اب تک اسرائیلی حملوں میں چار ہزار 57 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اب جو امریکا اور ایران کے درمیان 14 نکاتی معاہدہ ہوا ہے، اس کی پہلی ہی لائن میں لکھا ہے کہ لبنان میں جنگ کو روکنا سب سے ضروری ہے۔
اس معاہدے کے مطابق امریکا، ایران اور ان کے اتحادی تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کریں گے اور کوئی بھی ایک دوسرے کے خلاف جنگ شروع نہیں کرے گا اور لبنان کی آزادی کا احترام کیا جائے گا۔
اس بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر کہا کہ ”ہمیں امید ہے لبنان، حزب اللہ اور اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی ہوگی۔“
ایران کے لیے اپنے سب سے بڑے ساتھی یعنی حزب اللہ پر اسرائیلی حملے رکوانا ہمیشہ سے پہلی شرط رہی ہے اور ایران کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ جب تک لبنان میں حملے بند ہونے کی پکی گارنٹی نہیں ملتی، وہ امریکا سے بات چیت نہیں کرے گا۔
لیکن اسرائیل کی حکومت کے لیے یہ بات کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے کہ اسے حزب اللہ کو کمزور کرنے کے لیے اس پر حملوں سے روکا جائے۔
اس پر اسرائیل کے سخت گیر وزیرِ داخلہ اتامر بن گویر نے صاف لفظوں میں کہا کہ ”اسرائیل کو امریکا سمیت پوری دنیا پر یہ واضح کر دینا چاہیے کہ ہمارے بیٹوں کا خون اور ہمارے شہریوں کی حفاظت کوئی ایسی چیز نہیں جس پر سمجھوتہ یا قربانی دی جا سکے۔“
اسی طرح اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی لبنان سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم اسرائیل کے شمالی علاقے میں امن بحال کریں گے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم جنوبی لبنان میں بنائے گئے سیکیورٹی زون پر اپنا قبضہ برقرار رکھیں اور جب تک اسرائیل کی سیکیورٹی کی ضرورت رہے گی، ہم اس علاقے کو نہیں چھوڑیں گے۔“
دوسری طرف حزب اللہ نے اسرائیل کے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی توڑی ہے، بلکہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکا اور ایران کے معاہدے کے باوجود جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے اور حزب اللہ کسی بھی اسرائیلی حملے کا جواب دینے کے لیے بالکل تیار ہے۔
ایران کی طرف سے بھی امریکا پر شک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا کا اس معاہدے کی پہلی ہی شرط پر عمل نہ کر پانا یہ دکھاتا ہے کہ امریکا کے پاس ابھی تک ایرانی عوام کا بھروسہ جیتنے کا پکا ارادہ موجود نہیں ہے۔“
اس پورے معاملے میں امریکا کا اپنا موقف اب کچھ بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں ہی اسرائیل کے ان روز روز کے حملوں اور ایران کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کی مخالفت پر بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ہفتے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ ”اگر میں اسرائیل کی حکومت کی کابینہ میں ہوتا، تو میں پوری دنیا میں موجود اپنے واحد طاقتور ترین ساتھی (امریکا) پر اس طرح حملے نہ کرتا۔“
امریکا میں موجود ماہرین کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس کا یہ بیان امریکا میں اسرائیل کے بارے میں سوچ کو پوری طرح بدل رہا ہے۔ اگرچہ امریکی کانگریس میں اب بھی اسرائیل کے بہت سے حامی موجود ہیں اور صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ہمارے اسرائیل کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں، لیکن اب سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی مرضی کے بغیر اس جنگ بندی کو نافذ کرنے کے لیے کتنی سختی دکھاتے ہیں۔
اسرائیل نے لبنان کی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ حزب اللہ سے ہتھیار ڈلوائے، لیکن لبنان کی کمزور فوج ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے لبنان کی حکومت اس پورے امن عمل میں اکیلی پڑ گئی ہے اور عام لوگ اس جنگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔