ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ سے واپس روانہ؛ 'تکنیکی ٹیمیں مذاکرات جاری رکھیں گی'
سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ ہوگیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دھمکیوں پر شدید احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ نے مذاکرات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کے مسئلے کے حل تک دیگر معاملات پر مزید پیش رفت یا تفصیلی بات چیت نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے لبنان سے متعلق مسائل کا حل ناگزیر ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی ویب سائٹ کے مطابق مذاکرات میں شریک ایک امریکی سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے پر اہم اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی سفارت کار کے مطابق مذاکرات کا ماحول مجموعی طور پر مثبت رہا اور تمام فریقین نے جنگ بندی کو مزید مؤثر اور پائیدار بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے دوران لبنان میں کشیدگی کم رکھنے کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ سیاسی قیادت اور تکنیکی ٹیموں کے درمیان مستقبل میں رابطوں کے لیے ایک فریم ورک پر بھی اتفاق ہوا، جس کے تحت آئندہ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں شریک چاروں فریق آج ہونے والی پیش رفت پر مجموعی طور پر مطمئن دکھائی دیے اور انہوں نے مختلف امور پر جاری رابطوں کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود مذاکراتی وفد کا کام مکمل ہوچکا ہے اور وفد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد واپس روانہ ہوگیا ہے، تاہم تکنیکی ٹیمیں اپنا کام جاری رکھیں گی۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک میکانزم ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ حتمی معاہدے کے آغاز کے لیے ضروری بنیادیں رکھنے پر بھی بات چیت ہوئی جبکہ دوسرے فریق کی جانب سے ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی اچھی پیش رفت سامنے آئی ہے۔