اسرائیل نے ایران میں مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹار لنک تہران اسمگل کیا؛ سابق وزیراعظم کا اعتراف
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں اسرائیل نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹارلنک انٹرنیٹ ریسیورز اسمگل کیے تھے۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یروشلم میں جے این ایس انٹرنیشنل پالیسی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے منصوبے کا آغاز کیا تھا جس کے تحت ایران میں دسیوں ہزار اسٹارلنک ریسیورز حاصل کرکے خفیہ طور پر پہنچائے جانے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان آلات کا مقصد ایران میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی کو برقرار رکھنا تھا تاکہ حکومت مخالف مظاہرین باہمی رابطہ اور تنظیم سازی جاری رکھ سکیں۔
اسٹارلنک، امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جو زمینی انفراسٹرکچر کے بغیر انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ ایران ماضی میں اسرائیل اور امریکا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسے آلات ایران میں اسمگل کرتے ہیں۔ اگرچہ اسٹارلنک کو ایران میں باضابطہ طور پر کام کرنے کی اجازت حاصل نہیں، تاہم ایلون مسک پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ سروس ایران میں فعال ہے۔
بینیٹ نے کہا کہ یہ منصوبہ ایرانی مظاہرین کو منظم کرنے اور بالآخر ایرانی حکومت کے خاتمے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ان کے بقول، ”بدقسمتی سے موجودہ نااہل اسرائیلی حکومت نے اس عمل کو روک دیا، اور جب احتجاجی تحریک اٹھی تو مطلوبہ انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا۔“
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بینیٹ کے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ اسپیس ایکس کی جانب سے بھی امریکی کاروباری اوقات کے اختتام کے باعث کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
ایرانی حکام ماضی میں ملک میں احتجاجی مظاہروں اور بدامنی کے دوران انٹرنیٹ سروس معطل کرتے رہے ہیں۔ رواں سال جنوری میں ہونے والے ملک گیر احتجاج اور بعد ازاں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران بھی انٹرنیٹ تک عوامی رسائی محدود کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل بعض رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ انٹرنیٹ بندش کے دوران کچھ ایرانی شہریوں نے رابطے برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک سروس کا استعمال کیا۔
نفتالی بینیٹ، جو ایک دائیں بازو کی جماعت کے سربراہ ہیں اور آئندہ انتخابات میں نیتن یاہو کے ممکنہ سیاسی حریفوں میں شمار ہوتے ہیں، نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو ایران کی حکومت کا مقابلہ کرنے اور بالآخر اسے ختم کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
انہوں نے ایرانی حکومت کو ”فرسودہ، ناکام اور عوام سے کٹی ہوئی حکومت“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام بھی ایک دن اسی طرح ختم ہو جائے گا جیسے سوویت یونین کا خاتمہ ہوا تھا۔ ان کے اس بیان پر شرکا نے تالیاں بجائیں۔