اے سی کیسے کام کرتا ہے اور جسم پر کیا اثرات ڈالتا ہے؟ جاننا ضروری ہے
دنیا بھر میں گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لوگ اس شدید گرمی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر ایئر کنڈیشنر یعنی اے سی کا استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے سی جہاں ہمیں شدید گرمی سے بچاتا ہے اور سکون فراہم کرتا ہے، وہیں یہ ہوا سے نمی کو بھی ختم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے جلد خشک ہو سکتی ہے اور اس میں خارش یا جلن کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
الجزیرہ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اے سی کیسے کام کرتا ہے، اس کے انسانی جسم پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں اور گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے کون سی احتیاطی تدابیر ضروری ہیں؟
رپورٹ کے مطابق اگر ہم اس بات پر نظر ڈالیں کہ یہ مشین کام کیسے کرتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اے سی کمرے کے اندر کی گرم ہوا اور نمی کو کھینچ کر باہر پھینکتا ہے۔
جب کمرے کی گرم ہوا اے سی کے اندر لگی ٹھنڈی پائپوں سے گزرتی ہے تو اس کے اندر موجود گیس گرمی کو جذب کر لیتی ہے اور ہوا ٹھنڈی ہو کر دوبارہ کمرے میں چلی جاتی ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے جس سے کمرہ ٹھنڈا رہتا ہے۔
اس جدید مشین کو بنانے کا سہرا امریکی انجینئر ویلس کیریئر کے سر جاتا ہے جنہوں نے 1902 میں پہلی بار نیویارک کے ایک پرنٹنگ پلانٹ کے لیے نمی کو کنٹرول کرنے والا نظام تیار کیا تھا۔ اس موقع پر ولیس کیریئر نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جو اندرونی ماحول کو زیادہ بہتر اور قابلِ استعمال بنا سکے۔
1931 میں کھڑکیوں میں لگنے والے اے سی متعارف ہوئے جبکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع ہوئی اور یہ گھروں اور دفاتر تک پہنچ گئے۔
بعد ازاں ماحولیاتی خدشات کے باعث اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کا استعمال کم کیا گیا اور نسبتاً ماحول دوست ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔
دنیا کے وہ علاقے جہاں گرمی اور حبس زیادہ ہوتا ہے، وہاں اے سی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب ٹھنڈک نہ ملنے کی صورت میں لوگ ہیٹ اسٹریس یا گرمی کے دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گرمی کا دباؤ موسم سے متعلق اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ یہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس، دمہ اور ذہنی صحت کے مسائل کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
گرمی کا سب سے خطرناک روپ ہیٹ اسٹروک یعنی لو لگنا ہے، جس میں انسان کے جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا جاتا ہے اور اگر فوری علاج نہ ملے تو جان بھی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے زیادہ پانی پینے، دھوپ سے بچنے، ہلکے اور سوتی کپڑے پہننے، دوپہر کے وقت غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کرنے اور رہائشی جگہ کو ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
اسی طرح اگر کسی کو لو لگ جائے تو اسے فوری طور پر دھوپ سے ہٹا کر ٹھنڈی جگہ پر لٹائیں، اس کے پاؤں تھوڑے اوپر رکھیں، تنگ کپڑے ڈھیلے کردینے چاہیے اور پنکھے یا اے سی کی مدد سے جسم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں۔
رپورٹ کے مطابق اے سی کے مسلسل استعمال سے انسانی جسم پر کچھ اثرات بھی پڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اے سی کی ٹھنڈی اور خشک ہوا سے جلد اور آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں، جس سے بچنے کے لیے کریم اور آنکھوں کے قطرے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ زیادہ دیر ٹھنڈ میں رہنے سے سر درد بھی ہو سکتا ہے، اس لیے دن بھر پانی پیتے رہنا چاہیے۔
اس کے علاوہ، اے سی کی کم نمی کی وجہ سے ناک اور گلا خشک ہو سکتا ہے، جس کے لیے نمکین پانی کا اسپرے فائدہ مند رہتا ہے۔
اگر اے سی کے فلٹرز صاف نہ ہوں تو گردوغبار، پھپھوندی اور جراثیم ہوا میں شامل ہو سکتے ہیں جس سے دمہ کے مریضوں کی تکلیف بڑھ سکتی ہے، اس لیے سال میں کم از کم ایک بار اے سی کی سروس ضرور کرانی چاہیے۔
ٹھنڈی ہوا سے پٹھے اور جوڑ بھی اکڑ سکتے ہیں، اس لیے اے سی کے بالکل سامنے بیٹھنے سے بچنا چاہیے۔ نیند کے لیے کمرے کا درجہ حرارت 16 سے 18 ڈگری کے درمیان رکھنا اور ہلکا کمبل اوڑھنا سب سے بہتر مانا جاتا ہے۔
ان لوگوں کے لیے جو اے سی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے یا بجلی کا بل بچانا چاہتے ہیں، وہ گھر پر ہی دیسی طریقے سے ٹھنڈک کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے تھرموپول کے ایک ڈبے میں برف رکھ کر اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا پنکھا لگا کر عارضی طور پر ٹھنڈی ہوا حاصل کی جا سکتی ہے، جو گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں کو عارضی ہی سہی لیکن کچھ راحت ضرور پہنچا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی گرمی کے ساتھ ٹھنڈک کے ذرائع کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے، تاہم صحت مند رہنے کے لیے اے سی کا متوازن استعمال، مناسب صفائی اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔