'آسمان پر خلائی مخلوق جیسا غول دیکھا': ایران میں تباہ ہونے والے امریکی جہاز کے پائلٹ کا بیان
ایران میں تباہ ہونے والے امریکی ایف-15 جنگی طیارے کے پائلٹ کے ایک حیران کن بیان نے امریکی انٹیلی جنس اداروں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے انکشاف کیا ہے کہ طیارے سے نکلنے سے چند سیکنڈ قبل اس نے آسمان میں ایرانی ڈرونز کی ایک ایسی غیرمعمولی فارمیشن دیکھی جو ایک ”جیلی فش“ یا خلائی مخلوق کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ اس دعوے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی میں کوئی بڑی اور خفیہ پیش رفت کر لی ہے جس کا امریکا کو بھی اندازہ نہیں تھا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق اپریل میں ایران کے اوپر مار گرائے گئے امریکی ایف-15 طیارے کے پائلٹ نے ریسکیو کے بعد انٹیلی جنس حکام کو دی گئی بریفنگ میں ایک غیرمعمولی منظر بیان کیا، جس نے امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے بتایا کہ طیارے سے ایجیکٹ ہونے سے چند لمحے پہلے اس نے متعدد ایرانی ڈرونز کو ایک ساتھ مربوط انداز میں حرکت کرتے دیکھا۔ اس کے بقول بڑے ڈرونز کے نیچے چھوٹے ڈرونز ایسے معلق تھے جیسے ٹانگیں ہوں، اور پوری فارمیشن ایک ”جیلی فش“ کی شکل اختیار کیے ہوئے تھی۔ پائلٹ کے بیان کو جاننے والے ایک ذریعے نے اس منظر کو ”بالکل خلائی مخلوق جیسا“ قرار دیا۔
سی این این کے مطابق یہ بیان سامنے آنے کے بعد امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی میں شدید بحث شروع ہو گئی۔ بعض حکام کا خیال ہے کہ اگر پائلٹ نے واقعی وہی دیکھا جو اس نے بیان کیا تو یہ ایران کی ڈرون صلاحیتوں میں ایک بڑی پیش رفت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور یہ حتمی طور پر طے نہیں ہو سکا کہ ایف-15 طیارہ کس طرح مار گرایا گیا، تاہم ابتدائی جائزوں میں یہ امکان زیر غور ہے کہ ڈرونز کی اس غیرمعمولی فارمیشن نے کسی نہ کسی انداز میں ایرانی فضائی دفاع کو مدد فراہم کی ہو۔
امریکی حکام کے درمیان اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ کچھ انٹیلی جنس اہلکاروں نے پائلٹ کے بیان کی تصدیق کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ حادثے کے دوران پائلٹ کو چوٹ بھی آئی تھی اور وہ شدید دباؤ کی حالت میں تھا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پائلٹ نے ممکنہ طور پر ایک ایسے ڈرون نیٹ ورک کو دیکھا ہو جو باہم منسلک ہو کر ایک یونٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس قسم کی ”میش نیٹ ورکنگ“ ٹیکنالوجی ایک آپریٹر کو متعدد ڈرونز کو بیک وقت کنٹرول کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایف-15 میں دو اہلکار سوار تھے، جن میں ایک پائلٹ اور ایک ویپنز سسٹم آفیسر شامل تھا۔ پائلٹ کو چند گھنٹوں کے اندر امریکی اسپیشل فورسز نے بحفاظت نکال لیا، جبکہ دوسرے اہلکار نے ایک دن سے زیادہ عرصہ ایرانی علاقے میں گرفتاری سے بچتے ہوئے گزارا اور بعد میں اسے بھی ریسکیو کر لیا گیا۔
امریکی حکام تاحال اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ ایران کی کسی نئی اور جدید ڈرون صلاحیت کا ثبوت ہے یا پھر جنگی حالات میں پیش آنے والا کوئی اور غیرمعمولی منظر تھا۔