نجی تصاویر وائرل ہونے کے بعد عائشہ عمر پر کیا بیتی؟
معروف پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر نجی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے کے واقعے نے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو متاثر کرتے ہوئے ان کے تعلقات اور کیریئر کو تباہ کیا، بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہوئے انہیں شدید کرب میں مبتلا رکھا۔
بی بی سی سے ایک گفتگو میں عائشہ عمر نے سوشل میڈیا کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سخت غصے کا اظہار کیا کہ وہ خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات متاثرہ خواتین کے لیے طویل المدتی ذہنی اور سماجی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
ان کا یہ انٹرویو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’چین‘ کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کی 64 متاثرہ خواتین کی کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔
اداکارہ نے ماضی کا ایک تلخ واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ چند برس قبل تھائی لینڈ میں دوستوں کے ساتھ تعطیلات کے دوران لی گئی ان کی بعض ذاتی تصاویر مبینہ طور پر ان کی اجازت کے بغیر ان کے لیپ ٹاپ سے حاصل کرکے انٹرنیٹ پر شیئر کر دی گئیں۔
اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان تصاویر میں کوئی نامناسب یا غیر اخلاقی مواد موجود نہیں تھا، بلکہ یہ عام سیاحتی اور تفریحی تصاویر تھیں اور وہ بس عام لباس میں تفریح کررہی تھیں۔
عائشہ عمر نے کہا، ”یہ واقعہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ اس کے بعد میری نجی زندگی اور کیریئر دونوں متاثر ہوئے اور کئی تجارتی معاہدے بھی ختم ہوگئے۔“
ان کا کہنا تھا کہ اس ایک واقعے سے میرے کیریئر کو سخت دھچکا لگا اور کئی تجارتی برانڈز نے مجھ سے اپنے اشتہارات اور کام واپس لے لیا۔
ان کے بقول، معاشرے میں خواتین کے بارے میں مخصوص تصورات کی وجہ سے ایسے واقعات کا بوجھ زیادہ تر خواتین کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
اس صدمے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے عائشہ عمر نے بتایا کہ وہ اس واقعے کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں اور ان کے اندر ہر وقت ایک خوف اور بے چینی کی کیفیت رہنے لگی۔ اس تنظیم کی بانی حرا حسین نے عائشہ عمر کے ساتھ مل کر اس سوچ کو بدلنے پر کام کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ہراسانی کا مطلب صرف نازیبا تصاویر نہیں ہوتا۔
حرا حسین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ہمارے جیسے قدامت پسند معاشروں میں کسی بھی خاتون کی عام سی نجی تصویر بھی اگر اس کی مرضی کے بغیر وائرل کر دی جائے، تو اسے بدنام اور ہراساں کیا جا سکتا ہے، اس لیے اصل مسئلہ تصویر کا نہیں بلکہ عورت کی مرضی اور اجازت کا ہے۔
اس رپورٹ میں پاکستان کی ایک اور 32 سالہ خاتون ماہ نور کا واقعہ بھی شامل ہے، جن کے سابق شوہر نے طلاق کے بعد بدلہ لینے کے لیے ان کی مغربی لباس والی عام تصاویر انٹرنیٹ پر پھیلا دیں۔
ماہ نور کے مطابق اس حرکت کی وجہ سے ان کی موجودہ شادی شدہ زندگی خراب ہو گئی، رشتہ داروں اور دوستوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کے بچوں پر بھی اس کا بہت برا اثر پڑا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں خواتین کو درپیش آن لائن خطرات صرف نجی تصاویر کے افشا تک محدود نہیں رہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ایڈیٹنگ ٹولز کے ذریعے تصاویر میں ردوبدل کرکے جھوٹے تاثر پیدا کرنا اور ساکھ کو نقصان پہنچانا بھی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔