آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس لیا تو مذاکرات ختم کردیں گے: صدر ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

ایران نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کوئی ٹول ٹیکس یا فیس وصول نہیں کی جا رہی: امریکی صدر
اپ ڈیٹ 24 جون 2026 06:09pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس وصولی پر مذاکرات ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کوئی ٹول ٹیکس یا فیس وصول نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کو کوئی رقم نہیں دی اور نہ ہی ان کے فنڈز میں سے کوئی رقم جاری کی گئی ہے، کچھ ایسی رقم جاری کریں گے جو مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے۔

بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس کے برعکس ایران نے امریکا کو بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کسی قسم کا ٹول، انشورنس لاگت یا کوئی اور اضافی چارج نہ طلب کیا جا رہا ہے اور نہ ہی وصول کیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران کو کوئی رقم ادا نہیں کی اور نہ ہی ایران کے فنڈز میں سے کوئی رقم جاری کی گئی ہے۔

امریکی صدر کے مطابق امریکا ایران کی ایسی رقوم میں سے، جو امریکی کنٹرول میں ہیں، کچھ رقم امریکی کسانوں اور مویشی پال حضرات سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر زرعی اجناس کی خریداری کے لیے استعمال کرے گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کو خوراک کی اشد ضرورت ہے اور امریکا ان کے لیے خوراک کی خریداری صرف امریکی زرعی مصنوعات کے ذریعے کرے گا۔ بیان کے اختتام پر امریکی صدر نے اس معاملے پر توجہ دینے پر شکریہ بھی ادا کیا۔

دوسری جانب تہران کی یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے پروفیسر مصطفیٰ خوش چشم نے الجزیرہ سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران طویل مدت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

پروفیسر کے مطابق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران ابتدائی 60 روز تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے سروس فیس وصول نہیں کرے گا تاہم اس مدت کے بعد فیس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں بہت سے لوگ اس بات پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ مذاکرات کے 60 روزہ دورانیے میں حکومت نے سروس فیس وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مصطفیٰ خوش چشم کے مطابق معاملے کا بنیادی مقصد مالی فائدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ خطے میں نئے ضوابط اور طریقہ کار متعارف کرانا ہے، جسے وہ ایرانی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔

اس حوالے سے ایرانی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

Read Comments