پسند کی شادی پر تنازع، لڑکے کا والد اغوا، پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد

پولیس پہنچی تو ایس ایچ او اور اہلکار یرغمال، آنکھوں میں مرچیں ڈال کر وردیاں پھاڑ دی گئیں
اپ ڈیٹ 25 جون 2026 10:21am

شجاع آباد میں پسند کی شادی کے معاملے نے سنگین صورتحال اختیار کر لی۔ پولیس کے مطابق لڑکی کے اہلخانہ نے مبینہ طور پر لڑکے کے والد کو اغوا کر لیا، جبکہ بازیابی کے لیے پہنچنے والی پولیس ٹیم کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد 20 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

شجاع آباد کے تھانہ صدر کے علاقے میں پسند کی شادی کے معاملے پر کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب لڑکی کے اہلخانہ نے مبینہ طور پر لڑکے کے والد کو اغوا کر لیا۔

پولیس کے مطابق شاہد لنگاہ کے بیٹے زاہد نے تنویر کی بیٹی سے پسند کی شادی کی تھی، جس پر لڑکی کے ورثا مشتعل ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے اہلخانہ نے مبینہ طور پر لڑکے کے والد شاہد لنگاہ کو اغوا کر لیا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ صدر پولیس موقع پر پہنچی تو صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں مرچیں ڈال دیں، انہیں یرغمال بنا لیا اور اہلکاروں کی وردیاں بھی پھاڑ دیں۔

بعد ازاں تین مختلف تھانوں کی پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچی اور کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او سمیت یرغمال بنائے گئے اہلکاروں کو بازیاب کرا لیا۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تھانہ صدر پولیس نے خواتین سمیت 20 سے زائد افراد کو نامزد کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Read Comments