عمان کے ساحلی علاقے میں کارگو بحری جہاز پر پروجیکٹائل حملہ

حملے کے بعد اقوامِ متحدہ نے پھنسے ہوئے ملاحوں کے انخلا کی کوششیں معطل کر دیں
اپ ڈیٹ 26 جون 2026 12:04pm

برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے کہا ہے عمان کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے میں کارگو جہاز پر پروجیکٹائل حملے کی اطلاع ملی ہے۔

خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے عمان کے ساحل کے قریب ایک بحری واقعے کی اطلاع دی ہے، جس میں ایک مال بردار جہاز نامعلوم پروجیکٹائل کے حملے کا نشانہ بنا۔

یو کے ایم ٹی او کے مطابق واقعہ عمان کے علاقے دہیت کے جنوب مشرق میں تقریباً 7.5 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا، جہاں ایک کارگو جہاز کے دائیں جانب نامعلوم شے آ کر لگی۔

حملے کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے کو نقصان پہنچا ہے، حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا ہے کہ عمان کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب ایک کارگو جہاز نامعلوم پروجیکٹائل کے حملے کا نشانہ بنا۔

اس واقعے کے بعد اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (آئی ایم او) نے خلیجی پانیوں میں پھنسے جہازوں اور ہزاروں ملاحوں کے انخلا کا منصوبہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے اپنے بیان میں کہا کہ انخلا کے منصوبے پر اس وقت تک عمل درآمد روک دیا گیا ہے جب تک یہ دوبارہ یقینی نہ بنا لیا جائے کہ انخلا کی فہرست میں شامل تمام جہازوں اور خطے میں موجود دیگر بحری جہازوں کے لیے ضروری سکیورٹی ضمانتیں برقرار ہیں۔

آئی ایم او نے چند روز قبل امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پھنس جانے والے تقریباً 600 جہازوں اور 11 ہزار ملاحوں کو محفوظ راستوں سے خلیج سے نکالنے کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک راستہ ایرانی سمندری حدود جبکہ دوسرا عمانی پانیوں سے امریکی نگرانی میں مختص کیا گیا تھا۔

اُدھر امریکی ذرائع ابلاغ، جن میں نیویارک ٹائمز بھی شامل ہے، نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر بردار جہاز کو نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد ایران کے حمایت یافتہ ادارے خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستوں سے ہٹ کر سفر کرنے والے جہازوں کو محفوظ گزرگاہ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

یاد رہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی تھی، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی۔ بعد ازاں تہران نے اعلان کیا کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے بحری خدمات کے نام پر فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکا نے ایران کے اس مجوزہ منصوبے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت کی ایک اہم شاہراہ ہے، اور وہاں جہاز رانی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اضافی مالی بوجھ عالمی معیشت اور سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

Read Comments