ایران بحال اثاثوں سے امریکی گندم، سویا بین، مکئی خریدے گا، ٹرمپ اپنے مؤقف پر قائم

ایران پہلے ہی صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنے اثاثوں سے امریکی مصنوعات کی خریداری کا دعویٰ مسترد کرچکا ہے۔
اپ ڈیٹ 26 جون 2026 03:31pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثے امریکی کسانوں سے گندم، سویا بین اور مکئی کی خریداری کی صورت میں واپس کیے جائیں گے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے یہی دعویٰ کیا تھا جسے ایران نے مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثے امریکی کسانوں سے زرعی اجناس کی خریداری کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

انہوں نے ایران کو امریکا کے لیے ایک بڑی مارکیٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم امریکی کسانوں کے لیے دنیا بھر میں نئی مارکیٹیں کھول رہے ہیں۔ ایران ایک خوبصورت ملک ہے جو نئی مارکیٹ کی صورت میں سامنے آیا ہے‘۔

انہوں نے اس دعویٰ کی دلیل یہ دی کہ ایران میں خوراک کی سخت قلت ہے، اسی لیے ہم ان کے منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ خوراک کی فراہمی کی صورت میں ان ہی پر خرچ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل بہت جلد شروع ہونے والا ہے اور یہ بہت بڑی خریداری ہوگی۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکا، ایران کے منجمد فنڈز خود کنٹرول کرے گا اور یہ رقم براہِ راست امریکی کسانوں کو دی جائے گی تاکہ ایران کو خوراک بھیجی جا سکے۔

اس بیان کے بعد ایران کی وزارتِ خارجہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا کے اس عوے کو مسترد کیا تھا کہ ایران اپنے منجمد اثاثوں کی بحال ہونے والی رقم سے امریکی زرعی مصنوعات خریدے گا۔

باقر قالیباف نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پیغام میں امریکی دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکا کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ ہم بحال شدہ اثاثوں سے زرعی مصنوعات خریدیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو واحد امریکی فصل دیکھی ہے وہ ’بے اعتمادی‘ ہے، امریکا کی یہ فصل خالص اور گھریلو ہے۔

Read Comments