ایران کی خلیج تعاون کونسل اور امریکا کے مشترکہ اعلامیے پر تنقید، الزامات پروپیگنڈا قرار
ایران نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور امریکا کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کو مداخلت پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ تہران نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام پر امریکی الزامات کو من گھڑت اور اسرائیل کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکا اور خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں کی سلامتی کے حوالے سے امریکی دعوؤں کو محض بیان بازی اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
امریکہ اور خلیجی تعاون کونسل کے مشترکہ اعلامیے میں آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ، غیر مشروط اور آزادانہ بحری آمدورفت کا مطالبہ کیا گیا تھا جب کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون صلاحیتوں اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروپوں سے متعلق خدشات کا بھی اظہار کیا گیا تھا۔
اس کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ نے جمعے کو جاری بیان میں کہا ہے کہ خلیج میں امریکی فوجی موجودگی ہی عدم استحکام اور تقسیم کی بنیادی وجہ ہے۔ بیان کے مطابق آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عمان کے درمیان طے شدہ اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے، امریکا اور دیگر ممالک کو اس معاملے میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خلیجی ممالک کو بین الاقوامی قانون ہمسائیگی کے اصولوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا تنصیبات کو کسی تیسرے فریق کی جانب سے ایران کے خلاف منصوبہ بندی، معاونت یا فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران خلیجی ممالک میں موجود اپنے فوجی اڈوں کو استعمال کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن علاقائی ممالک کی سلامتی اور ان کے باہمی تعلقات کو خاطر میں نہیں لاتا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ملک کے جوہری پروگرام کے حوالے سے الزامات کو جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ ایران خطے کی سلامتی کے لیے دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ اور پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جی سی سی میں شامل ممالک خطے کا تحفظ اس کی سلامتی کے سب سے بڑے دشمن سے مدد لینے کو سمجھتے ہیں تو یہ ایک افسوس ناک تضاد اور حالیہ تلخ تجربات سے سبق نہ سیکھنے کی علامت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین، لبنان اور شام کے علاقوں پر قبضے اور جارحیت کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جب کہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کو بھی بین الاقوامی نگرانی سے باہر رکھا گیا ہے۔ اس کے برعکس ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ صلاحیتیں ایران کے عوام کے حقِ دفاع اور خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بحرین کے دارالحکومت منامہ میں سعودی عرب، یو اے ای، قطر، کویت، بحرین اور عمان کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا تھا، جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی شرکت کی تھی۔
اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ٹیکس کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا گیا تھا کہ ایسا کوئی بھی اقدان قبول نہیں کیا جائے گا۔ مشترکہ بیان میں عراق اور دیگر خطوں میں موجود ایران کے حامی گروپوں کی جانب سے خلیجی ممالک کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کی بھی سخت مذمت کی گئی تھی۔
اسی طرح ایران کے ساتھ مستقبل میں تجارت کو اس کے مستحکم رویے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کی شرط سے مشروط کیا گیا تھا۔
ایران نے مشترکہ اعلامیے میں ایران کو خطے کے لیے خطرہ قرار دینے کے تاثر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ بیانیہ ایران کے خلاف طویل عرصے سے جاری ’ایران فوبیا مہم‘ کا حصہ ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق امریکا کی ’تقسیم کرکے حکومت کرو‘ کی پالیسی نے خطے کو اسلحے کی دوڑ میں دھکیل دیا ہے۔ ایران نے خلیجی ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ مغربی دھمکیوں کا حصہ بننے کے بجائے مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے ایرانی اقدام کا حصہ بنیں۔