جنگ بندی کی دوبارہ خلاف ورزی پر امریکا کو نتائج بھگتنا ہوں گے: ایران
امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر حملے کے بعد ایران پر کیے گئے حملوں پر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران کو نشانہ بنایا ہے۔
ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے درمیان ایران پر حملہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سفارتی عمل کا احترام نہیں کرتا۔
انہوں نے امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ناکام امریکی صدر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں نہ مذاکرات کے اصولوں کی کوئی پاسداری ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدے کا کوئی احترام ہے۔
ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی اس غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی کے نتائج امریکا کو بھگتنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی یہ لاپرواہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح آخرکار پسپائی اور پچھتاوے پر ختم ہوگی۔
ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا، اور امریکا کو اپنی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے جمعے کو تہران پر مال بردار بحری جہاز پر حملے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر فوجی حملے کیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کو محدود کرنے کی سفارت کاروں کی کوششوں کے دوران نازک جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعے کو بتایا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی ریڈار ٹھکانوں پر امریکی حملے ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف بلا جواز جارحیت کا جواب ہیں، جو جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے۔
سینٹ کام نے اس آپریشن کو ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر گذشتہ روز ہونے والے حملے کا ایک طاقتور جواب قرار دیا۔