یورپ میں گرمی کا قہر: پیرس فیشن ویک میں ہیٹ ویو نے تباہی مچا دی
یورپ میں جاری حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو نے پیرس فیشن ویک کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث جہاں کئی شوز کے مقامات پر ایئر کنڈیشننگ کا نظام فیل ہو گیا، وہیں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت دیکھی گئی۔ اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عالمی فیشن انڈسٹری بدلتے ہوئے موسموں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟
فیشن ویک کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مہمانوں کو گرمی سے بچانے کے لیے منفرد طریقے اپنائے گئے۔ شو میں آنے والے معروف برانڈز کے مہمانوں کی تواضع چاندی کی پلیٹوں میں رکھی آئسڈ ایوان واٹر، برف کے پیکٹس اور مسٹ مشینوں سے کی گئی، لیکن یہ تمام انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔
ایک برطانوی فیشن نقاد بین فری مین نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا، ’میں نے سوچ لیا تھا کہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔‘ ان کے مطابق گرمی اتنی زیادہ تھی کہ برداشت مشکل ہو گیا تھا۔
فیشن ویک میں کچھ ڈیزائنرز نے گرمی کو ہی انداز کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ سینٹ لورینٹ کے شو میں دھند اور بھاپ کے اثرات استعمال کیے گئے، جبکہ ماڈلز ہلکے اور نرم کپڑوں میں نظر آئے۔ لیکن اسی شو میں کچھ بھاری اور چمڑے کے لباس بھی پیش کیے گئے، جو گرمی کے باوجود فیشن کے انداز کو برقرار رکھنے کی کوشش لگ رہے تھے۔
فرانس کی ’ہاؤٹ کواٹیو فیشن فیڈریشن‘ کے سربراہ پاسکل مورانڈ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ہیٹ ویو پلان پر عمل کر رہے ہیں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق فیشن ویک کے تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
واضح رہے کہ صرف فیشن ویک ہی نہیں، بلکہ پیرس کا تاریخی عجائب گھر ’لوور‘ بھی شدید گرمی کی وجہ سے اپنے اوقات کار تبدیل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے، کیونکہ پرانی عمارتیں اس شدید ہیٹ ویو کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئیں۔