امریکا کی ایرانی ساحلوں پر دوبارہ بمباری؛ جواب میں تہران کے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

امریکی لڑاکا طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے دس فوجی ٹھکانوں، میزائل اور ڈرونز کے گوداموں اور ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا۔
شائع 28 جون 2026 08:54am

امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد بھی دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ امریکا نے مسلسل دوسرے دن ایرانی ساحلی شہروں سریک، بندر لنگہ اور جزیرہ قشم پر شدید بمباری کی ہے۔ جس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے لڑاکا طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے دس فوجی ٹھکانوں، میزائل اور ڈرونز کے گوداموں اور ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکا نے اس کارروائی کی ایک ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر جاری کی ہے۔

یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب کچھ دن پہلے عمان کے سمندر میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ طور پر ایرانی ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا، جس کا الزام امریکا نے ایران پر لگایا تھا۔

اس امریکی بمباری کے جواب میں ایران کی فوج ’پاسدارانِ انقلاب‘ نے بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی حملے کیے ہیں۔

ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہماری بحری اور فضائی فوج نے کویت میں موجود امریکا کے علی السالم ایئربیس اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی فوج نے سخت لہجے میں وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن نے کسی بھی بہانے دوبارہ جارحیت کی تو اس کا ایسا منہ توڑ جواب دیا جائے گا جو اسے تباہ کر دے گا۔

ایرانی فوج نے یہ بھی صاف کہہ دیا ہے کہ امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو چیک کرنے کا پورا حق ایران کے پاس ہے اور اب امن معاہدہ ختم ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

دوسری طرف ایک امریکی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ بحرین اور کویت میں ہونے والے ان ایرانی حملوں سے ابھی تک کسی امریکی فوجی کے مارے جانے یا کسی بڑے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے، لیکن صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

اس سارے تنازع کی اصل وجہ کیا ہے، اسے سمجھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر عباس اصلانی نے بتایا کہ امریکا اور ایران دونوں اس بات پر زور لگا رہے ہیں کہ سمندری راستے پر کس کا حکم چلے گا۔

انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کا ماننا ہے امریکا امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور جہازوں کے گزرنے کے لیے اپنی مرضی کا نیا راستہ بنانا چاہتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا طاقت کے زور پر ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ سمندر کا نظام پرانی صورتحال پر واپس چلا جائے، لیکن ایران کا اصرار ہے کہ اب پرانا وقت واپس نہیں آ سکتا اور ایک نئی حقیقت جنم لے چکی ہے۔

عباس اصلانی نے خبردار کیا کہ ایران کے لیے یہ سمندری راستہ اس کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اس لیے وہ اس پر سے اپنا کنٹرول کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔

اب دونوں ملکوں کی اس ضد کی وجہ سے خطے میں بڑی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

Read Comments