آئی پی ایل کھیلنے والے بڑے کرکٹر اور اُن کے والد کے خلاف مقدمہ درج
انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل میں پنجاب کنگز کی طرف سے کھیلنے والے مشہور کرکٹر ششانک سنگھ، ان کے ریٹائرڈ پولیس افسر والد اور گھر کے ڈرائیور کے خلاف بھوپال میں اپنے ہی گھر کے باورچی کو مارنے پیٹنے اور گالیاں دینے کے الزام میں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقدمہ مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال کے راتی باڑ تھانے میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں ششانک سنگھ، ان کے والد شیلیش سنگھ، جو پولیس کے ریٹائرڈ اسپیشل ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں، اور ان کے ڈرائیور کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ پورا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب31 سالہ باورچی وپیندر سنگھ تومر نے پولیس اسٹیشن جا کر ایک سرکاری شکایت درج کروائی۔
وپیندر کا کہنا ہے کہ انہیں 25 جون کو 15ہزار روپے مہینہ تنخواہ پر کھانا پکانے کے لیے رکھا گیا تھا اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ انہیں مفت کھانا، رہنے کی جگہ اور مستقبل میں سرکاری نوکری دلوانے میں مدد کی جائے گی۔ لیکن نوکری شروع کرنے کے چند ہی دنوں کے اندر گھر کا ماحول ان کے لیے بہت مشکل ہو گیا اور کھانے کے ذائقے اور کوالٹی کو لے کر روز روز جھگڑے ہونے لگے۔
باورچی وپیندر سنگھ نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ جب انہوں نے اس روز روز کی گالی گلوچ اور خراب ماحول سے تنگ آ کر نوکری چھوڑنے اور اپنے گھر واپس جانے کی بات کی تو معاملہ بہت زیادہ بڑھ گیا۔
وپیندر کے مطابق ان کا موبائل فون زبردستی چھین لیا گیا تاکہ وہ کسی سے مدد کے لیے رابطہ نہ کر سکیں، جس پر انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔
باورچی نے مزید الزام لگایا کہ کرکٹر ششانک سنگھ، ان کے والد اور ڈرائیور نے مل کر کمرے کا دروازہ زبردستی توڑ دیا اور ان کے ساتھ سخت مار پیٹ کی، جس کے بعد انہیں گھر سے باہر نکال دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ طبی معائنے میں باورچی کے چہرے اور جسم پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے ہیں، جس کے بعد پولیس نے قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے معاملے کی چھان بین شروع کر دی ہے۔
دوسری طرف کرکٹر ششانک سنگھ جو کہ پنجاب کنگز کی ٹیم کا ایک اہم حصہ مانے جاتے ہیں، ان کے لیے کرکٹ کے میدان میں بھی یہ سال کچھ خاص اچھا نہیں رہا۔
رواں سال کے آئی پی ایل سیزن میں انہوں نے 12میچوں میں صرف132 رنز بنائے اور فیلڈنگ کے دوران ان سے کئی کیچ بھی چھوٹے۔ اس نئے تنازع کے بعد اب وہ قانون کے شکنجے میں بھی پھنس گئے ہیں۔