خیبرپختونخوا: 15 بڑے دہشت گردوں کے سروں کی قیمت کروڑوں روپے مقرر
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور صوبے سے برے عناصر کا خاتمہ کرنے کے لیے حکومت نے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔ صوبے کے محکمہ داخلہ نے دیر اور اس کے قریبی علاقوں میں سرگرم 15 انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے اور ان کو پکڑوانے کے لیے بھاری انعامات کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ان مجرموں کے سروں کی قیمتیں ایک کروڑ روپے سے لے کر چالیس لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہیں، تاکہ عوام کی مدد سے انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ اس فہرست میں الگ الگ مجرموں پر ان کے جرائم کے حساب سے انعام رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خورشید نامی ایک خطرناک دہشت گرد کے سر کی قیمت سب سے زیادہ یعنی ایک کروڑ بیس لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔
اسی طرح ایک اور مطلوب دہشت گرد جس کا نام شیر امین ہے اور وہ جرائم کی دنیا میں کاکا کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کو قانون کی گرفت میں لانے یا اس کا پتا بتانے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کا انعام مقرر کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کے افسران نے مزید بتایا ہے کہ فہرست میں شامل دو اور خطرناک ملزمان قاری احسان اور شیر عالم میں سے ہر ایک پر ساٹھ، ساٹھ لاکھ روپے کا انعام اناؤنس کیا گیا ہے۔
ان کے علاوہ سپین شاہ اور اعجاز نامی مفرور ملزمان پر پچاس، پچاس لاکھ روپے، جبکہ کفایت، حضرت حسین اور شریف اللہ نامی دہشت گردوں میں سے ہر ایک پر چالیس، چالیس لاکھ روپے کا سرکاری انعام رکھا گیا ہے۔
اس بڑی کارروائی کے ساتھ ہی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے خاص سرکاری ادارے یعنی سی ٹی ڈی نے عام شہریوں سے ایک پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ان مطلوب افراد کو ڈھونڈنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں۔
سی ٹی ڈی کے حکام نے عوام کو بھروسا دلاتے ہوئے کہا ہے کہ جو کوئی بھی شہری ان دہشت گردوں کے بارے میں کوئی بھی اطلاع فراہم کرے گا، اس کی پہچان اور شناخت کو بالکل چھپا کر اور خفیہ رکھا جائے گا تاکہ اس کی جان کو کوئی خطرہ نہ ہو۔
