غیر ملکی خواتین کے مبینہ زیادتی کیس کا مرکزی ملزم وحید عرف 'باس' گرفتار

ملزم کے مختلف جرائم سے متعلق ریکارڈز کی مزید جانچ پڑتال جاری ہے: پولیس حکام
شائع 06 جولائ 2026 01:30pm

غیرملکی خواتین کے اغوا اور مبینہ زیادتی کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے واقعے کے مرکزی کردار وحید عرف باس کو اوکاڑہ سے گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو اوکاڑہ سے حراست میں لیا گیا، جس سے ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم وحید عرف باس کا کریمنل ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے، جس میں وہ متعدد سنگین جرائم میں ملوث پایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزم دہشت گردی، پولیس مقابلوں اور انسانی اعضا کی غیر قانونی فروخت جیسے سنگین مقدمات میں بھی ملوث رہا ہے، جبکہ اس کے خلاف اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کا مقدمہ بھی درج ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم کے مختلف جرائم سے متعلق ریکارڈ کی مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ غیرملکی خواتین پر تشدد کے واقعے میں ملوث دیگر افراد مبینہ طور پر ملزم وحید کے گن مین تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم متاثرہ خواتین کو انسانی اعضا کی فروخت کی دھمکیاں بھی دیتا رہا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ ملزم منشیات خصوصاً آئس کے نشے کا عادی بھی ہے، تاہم پولیس نے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

واضح رہے اس سے قبل لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا تھا کہ مقدمے میں ’باس‘ کے نام سے سامنے آنے والے پراسرار کردار کا اصل نام وحید ہے، جو اوکاڑہ کا رہائشی ہے اور اسکے خلاف آٹھ مقدمات درج ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا تھا کہ یکم جولائی کو پولیس کو ہیلپ لائن پر بیرون ملک سے کال موصول ہوئی تھی جس میں کارلوس نامی شخص نے بتایا تھا کہ اس کی بیٹی پاکستان میں اغوا ہو گئی ہے اور اسے تاوان کی کال موصول ہوئی ہے۔

فیصل کامران کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین 26 جون کو اسلام آباد جب کہ 29 جون کو لاہور آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کال کے بعد پولیس نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کیا اور لاہور کے علاوہ سرگودھا اور دیگر مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ رضا ڈار نامی ملزم ڈپٹی وزیراعظم کا رشتہ دار ہے تو انہوں نے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا جس پر انہیں ہدایت دی گئی کہ قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

Read Comments