تو کیا واقعی سب کچھ "ختم"ہو گیا؟
جنگ کا پہلا شکار اکثر ”یقین کی کیفیت“ ہوتی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دوسرا شکار تیزی سے مالیاتی منڈیاں بن رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ اعلان کر دیا ہو کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ”ختم“ ہو چکی ہے، لیکن شاید اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا منڈیوں نے کبھی یہ تسلیم بھی کیا تھا کہ یہ واقعی شروع ہوئی تھی؟
منڈیوں کا ردعمل فوری تھا، تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔امریکی سرکاری قرضوں کے بانڈز کا منافع ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوف اور اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیکس تیزی سے اوپر گیا۔ عالمی حصص بازار مندی کا شکار ہو گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے والے اثاثوں کے بجائے ایک بار پھر نقد رقم کو ترجیح دی، جس سے ڈالر مضبوط ہوا۔ یہ تحریر لکھے جانے تک منڈیاں امریکی مرکزی بینک کے حالیہ اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات کی بھی منتظر تھیں، تاکہ یہ سراغ لگایا جا سکے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا کوئی نیا جھٹکا لگتا ہے تو پالیسی ساز اس پر کیا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔
کیا یہ سب کچھ ہمیں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے؟
مالیاتی منڈیاں مہینوں سے یوں برتاؤ کر رہی ہیں جیسے مشرقِ وسطیٰ اب کسی ”آن آف“ سوئچ کے تابع ہو گیا ہو۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو تیل بیچو، شیئرز خریدو اور خطرے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاؤ۔ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خام تیل خریدو، اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالواور ڈالر خرید لو۔ یہ عمل اب بالکل کسی مشین کی طرح خودکار ہو چکا ہے۔شاید یہی اصل مسئلہ ہے۔برسوں تک سرمایہ کار امریکی مرکزی بینک کے سربراہان کی طرف سے ملنے والے روایتی مالیاتی تحفظ کی باتیں کرتے رہے۔ یہ تصور انتہائی سادہ تھا۔ جب بھی منڈیاں شدید دباؤ میں آتیں مرکزی بینک بالآخر مالیاتی حالات کو نرم کر دیتا تھا۔ سرمایہ کاروں کو یقین تھا کہ ان کے لیے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔اب ایک اور حفاظتی تصور ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، اگرچہ یہ ذرا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔
آپ اسے” آبنائے ہرمز کا مالیاتی جال“ کہہ سکتے ہیں۔ طنز کی بات یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز منڈیوں کو بچا نہیں رہا بلکہ یہ بار بار مالیاتی حالات کو مزید سخت اور مشکل بنا رہا ہے۔دنیا کی اس اہم ترین توانائی گزرگاہ سے جہاز رانی کو لاحق ہونے والا ہر نیا خطرہ فوری طور پر ایک ہی جیسے اثرات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کے پیچھے مہنگائی کی توقعات بھی اوپر جاتی ہیں۔ بانڈز کا منافع بڑھتا ہے، بازار میں اتار چڑھاؤ واپس آ جاتا ہے، ڈالر مضبوط ہوتا ہے، حصص بازار گرتے ہیں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثاثے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔یہ آبنائے خود شرحِ سود مقرر نہیں کر رہا، لیکن یہ مسلسل انھی عوامل کو تبدیل کر رہا ہے جن پر مرکزی بینکوں کو ردعمل دینا ہوتا ہے۔ تو کیا پانی کی ایک چھوٹی سی پٹی خاموشی سے دنیا کے بااثر ترین مالیاتی اشاروں میں سے ایک بن چکی ہے؟
یہ بات شاید مبالغہ آرائی معلوم ہو لیکن اس وقت یہ دیکھیں کہ اب منڈیوں میں ہلچل مچانے کے لیے کتنی کم چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہرمز کو لازمی بند کرے، اسے صرف تاجروں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ نقل و حمل میں رکاوٹ کا امکان موجود ہے۔ سپلائی حقیقت میں معطل ہونے سے بہت پہلے ہی خطروں کا معاوضہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔تیل کی یہ عادت ہے کہ وہ معیشت میں تقریباً ہر دوسری چیز کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے، کھاد کی لاگت بڑھ جاتی ہے، ایئر لائنز کو ایندھن کے بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پیداواری شعبے کے منافع کا مارجن دباؤ میں آ جاتا ہے۔ مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار سامنے آنے سے پہلے ہی مہنگائی کی توقعات بدلنے لگتی ہیں۔ مرکزی بینک بالاخر اسی لہر کے پیچھے چلتے ہیں۔
منڈیوں کا حالیہ ردعمل بالکل اسی منتقلی کے طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹریژری بانڈز کا منافع اس وقت بڑھا جب سرمایہ کاروں نے مہنگائی کے خطرات کا نئے سرے سے جائزہ لیا۔ یورپی سرکاری بانڈز نے بھی اسی کی پیروی کی۔ اتار چڑھاؤ کے انڈیکس میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا روزانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ واپس آئی، جبکہ حصص بازار، خاص طور پر مہنگے ٹیکنالوجی شیئرز ایک بار پھر دباؤ کی زد میں آ گئے۔
کیا یہ واقعتاً میزائلوں کا ردعمل ہے؟ یا اس بات کا ردعمل ہے کہ وہ میزائل مہنگائی، مالیاتی پالیسی اور سرمائے کی لاگت کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ منڈیاں اب جغرافیائی سیاسی سرخیوں کو کلّی معاشی اعداد و شمار کی طرح دیکھ رہی ہیں۔ہر مرکزی بینک مہنگائی پر نظر رکھتا ہے جبکہ اب ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی خود آبنائے ہرمز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ منڈیاں اب پہلے ردعمل ظاہر کرنے اور سوالات بعد میں پوچھنے پر پوری طرح تیار دکھائی دیتی ہیں۔ تاجر اب صرف تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی قیمت نہیں لگا رہے، بلکہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں کہ مرکزی بینک ایک بار پھر خود کو انھی مہنگائی کے خطرات کے سامنے پا سکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چند ہفتے پہلے سوچ رہے تھے کہ یہ ختم ہو رہے ہیں۔
کیا یہ اس تنازع کے موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت بن سکتا ہے؟قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کے نیچے ایک اور تضاد بھی چھپا ہوا ہے۔منڈیاں کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی، روزگار کی رپورٹوں اور مہنگائی کے اعداد و شمار کا تخمینہ لگانے میں تو انتہائی سمجھدار ہو چکی ہیں، لیکن وہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے معاملے میں اب بھی ایسا برتاؤ کرتی ہیں جیسے اسے کسی صدر کے ایک بیان سے بند یا شروع کیا جا سکتا ہو۔ایک دن ایسا لگتا ہے کہ سفارت کاری نے استحکام بحال کر دیا ہے اور اگلے ہی دن ہرمز کے آس پاس چند حملے انھی منڈیوں کو دوبارہ دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیا منڈیاں کبھی امن کے امکانات کا تعین کر رہی تھیں؟ یا صرف سرخیوں کی عدم موجودگی یعنی سکون کے وقفے کا فائدہ اٹھا رہی تھیں؟
ان ممالک کے لیے جو اپنی زیادہ تر توانائی درآمد کرتے ہیں، یہ سوالات صرف تجارتی میزوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے نتائج بہت دور رس ہوتے ہیں۔پاکستان اس چکر سے اچھی طرح واقف ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہر مسلسل اضافہ بالآخر ملک کے درآمدی بل، مہنگائی کے منظر نامے، شرحِ مبادلہ اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح کے واقعات ایشیا کے بڑے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومتیں توانائی کی حفاظت کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتیں جیسے منڈیاں مستقبل کے سودوں کی تجارت کرتی ہیں۔
شاید اصل سبق یہیں چھپا ہوا ہے۔
منڈیاں امکانات کے حساب سے قیمت طے کرنے کے لیے بنی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام خود کو کمزوریوں اور خطرات کے لیے تیار رکھنا ہے۔اگر بالآخر ایک اور جنگ بندی ہو جاتی ہے تو منڈیاں یقیناً ایک بار پھر جشن منائیں گی۔ تیل سستا ہوگا، خطرہ مول لینے کا رجحان بڑھے گا، بانڈز کا منافع کم ہو سکتا ہے اور اتار چڑھاؤ کا انڈیکس بھی پرسکون ہو جائے گا لیکن کیا پالیسی سازوں اور حکومتوں کو بھی اسی اچھے کی امید کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟
تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی منڈیاں شاذ و نادر ہی کسی یقین کی کیفیت کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ امکانات، تاثرات اور بیانیوں پر چلتی ہیں۔ حکومتوں کا کام زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہیں ان نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے جن کے بارے میں وہ امید کرتی ہیں کہ وہ کبھی سامنے نہ آئیں۔
ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔منڈیاں اب بھی غیر یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔
شاید بہتر سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی کسی کو یہ پوچھنا چاہیے کہ آیا یہ مفاہمت نامہ ختم ہو گیا ہے یا اس کے بجائے توجہ کسی بہت زیادہ اہم چیز پر مرکوز ہونی چاہیے؟کیا آبنائے ہرمز خاموشی سے عالمی مالیاتی حالات کو چلانے والے دنیا کے طاقتور ترین محرکات میں سے ایک بن چکا ہے؟ اور اگر ہر نیا تصادم کسی بھی مرکزی بینک کے ایک لفظ بولنے سے پہلے ہی ان حالات کو سخت کر دیتا ہے تو پھر اصل میں منڈیوں کا رخ کون طے کر رہا ہے؟
نوٹ: یہ تحریر 09 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
