مونال، نسلہ اور بھٹو کی پھانسی: سپریم کورٹ کے وہ فیصلے جو وقت کے ساتھ بدل گئے

سپریم کورٹ کے نسلہ ٹاور اور مونال ریسٹورنٹ سے متعلق فیصلوں کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ایک اہم سوال بار بار سامنے آ رہا ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے بھی کالعدم قرار دیے جا سکتے ہیں؟
اپ ڈیٹ 13 جولائ 2026 07:49pm

وفاقی آئینی عدالت نے رواں ماہ دو انتہائی ہائی پروفائل مقدمات میں سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ ان میں پہلا فیصلہ کراچی میں شارعِ فیصل پر واقع نسلہ ٹاور جب کہ دوسرا اسلام آباد کی مارگلہ ہلز پر واقع مشہور مونال ریسٹورنٹ کی مسماری سے متعلق ہے۔ آئینی عدالت نے ان دونوں مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کو عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا۔

پاکستان میں سپریم کورٹ کو طویل عرصے تک ملک کی سب سے بااختیار عدالت سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کے فیصلے نہ صرف قانونی معاملات بلکہ سیاست، معیشت، شہری حقوق اور ریاستی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔

تاہم حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ایک اہم سوال بار بار سامنے آ رہا ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے بھی کالعدم قرار دیے جا سکتے ہیں؟

پاکستان میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد 13 نومبر 2025 کو وفاقی آئینی عدالت کے نام سے ایک نئی عدالت قائم کی گئی اور سپریم کورٹ کے بعض اختیارات 13 رکنی اس عدالت کو منتقل کردیے گئے۔

ماضی میں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کے لیے لارجر یا ریویو بینچ تشکیل دیے جاتے تھے، تاہم اب سپریم کورٹ کے پاس صرف عام دیوانی، فوجداری یا تجارتی مقدمات کے حتمی فیصلے کا اختیار ہے۔

عدالتی اصلاحات کے بعد تمام آئینی تشریحات، بنیادی حقوق، بین الصوبائی تنازعات، آئینی حیثیت کے معاملات اور سپریم کورٹ کے سابقہ ازخود نوٹسز (سوموٹو) کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سننے کا حتمی دائرہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے ان ہی اختیارات کی روشنی میں رواں ماہ سپریم کورٹ کے دو اہم فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔

1. مونال ریسٹورنٹ کیس

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے معروف مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 13 جولائی کو اس کیس کا مختصر فیصلہ سنایا۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی اہم قانونی پہلوؤں کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور فیصلے میں ایسے نکات بھی شامل تھے جن کا حقائق سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔‘

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2006 میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی حدود میں مونال ریسٹورنٹ کو کاروبار کے لیے زمین لیز پر دی گئی تھی۔ یہ جگہ سیاحت کے لیے اسلام آباد کا مقبول ترین مقام رہا۔

بعد ازاں مونال ریسٹورنٹ کی لیز کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت رہا۔

سپریم کورٹ نے 11 جون 2024 کو ماحولیاتی تحفظ کو بنیاد بناتے ہوئے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم مونال ریسٹورنٹ سمیت دیگر تجارتی مقامات کو بند کرنے اور ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم بینچ کو آگاہ کیا کہ مارگلہ ہلز پر قائم مونال، لا مونٹانا اور دیگر تعمیرات کو مسمار کر کے زمین دوبارہ سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس زمین کی ملکیت کے تنازعات ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہونے کے باوجود سپریم کورٹ نے زیرِ التوا مقدمات کو نظرانداز کیا۔

آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایسا تاثر ملتا ہے جیسے جانوروں کے حقوق تو ہیں مگر انسانوں کے نہیں۔ وہاں سماعت کے دوران تمام وکیل کیوں گونگے ہو گئے تھے؟‘

وفاقی آئینی عدالت نے یہ تنازعات دوبارہ متعلقہ عدالتوں کو واپس بھیج دیے ہیں جب کہ انتظامی اور ریگولیٹری معاملات دوبارہ متعلقہ سرکاری اداروں کے سپرد کر دیے ہیں۔

2. نسلہ ٹاور کیس

نسلہ ٹاور کراچی میں شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر واقع عمارت تھی، جسے سپریم کورٹ کے حکم پر 2022 کے اوائل میں مسمار کر دیا گیا تھا۔

کراچی میں تجاوزات کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران دالت کو آگاہ کیا گیا کہ شارع فیصل پر موجود کثیر المنزلہ رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کا کچھ حصہ سروس روڈ اور عوامی زمین پر ناجائز قبضہ کر کے بنایا گیا۔

جون 2021 میں اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری گرانے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد درجنوں خاندان، جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے فلیٹس خریدے تھے، عمارت خالی کرنے پر مجبور ہوئے۔ بعد ازاں 2022 کے اوائل میں نسلہ ٹاور کو مرحلہ وار مسمار کر دیا گیا تھا۔

اس مقدمے نے حال ہی میں اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے 10 جولائی کو سپریم کورٹ کے اس حکم کو واپس لے لیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ’سپریم کورٹ کے سامنے صرف ایک مخصوص عمارت کا کیس تھا، لیکن عدالتِ عظمیٰ نے اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر پورے کراچی کے لیے وسیع احکامات جاری کیے۔‘

فیصلے میں کہا گیا کہ عمارتوں سے متعلق قوانین کا نفاذ، شہری زمین کا نظم و نسق اور ریگولیشن عدالتوں کی نہیں بلکہ صوبائی حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ذمہ داری ہیں۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کی بنیاد بننے والے اس کیس میں عمارتیں مسمار ہوئیں، خریدار بھی بے گھر ہوئے مگر بدعنوانی کے ذمہ داروں کا احتساب ادھورا رہ گیا۔

مقدمے میں سابق ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے منظور قادر کاکا سمیت تقریباً 18 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم استغاثہ مضبوط تکنیکی شواہد اور اصل سرکاری ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث مقدمہ کمزور پڑ گیا اور بعد ازاں کئی اہم ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر ماتحت عدالتوں سے بری کر دیا گیا۔

مونال ریسٹورنٹ اور نسلہ ٹاور سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تو وفاقی آئینی عدالت نے کالعدم قرار دیا۔ تاہم وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے پہلے بھی سپریم کورٹ متعدد مواقع پر اپنے ہی اہم فیصلوں پر نظرِ ثانی کر چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے لارجر بینچ یا ریویو بینچ تشکیل دیے جاتے تھے۔

سپریم کورٹ کے نظرثانی شدہ کیسز میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی، آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی اور ریکوڈک کیس مشہور مثالیں ہیں۔

3. ذوالفقار علی بھٹو کیس

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 میں عدالت کے حکم پر راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی۔ ان پر پیپلزپارٹی کے ہی رہنما احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا الزام تھا۔

پانچ جولائی 1977 کو جب جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا تو دو ماہ بعد ستمبر میں ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر کے ان پر نواب احمد خان قصوری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔

سنہ 1974ء میں احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس میں وہ جاں بحق ہو گئے تھے۔ احمد رضا قصوری نے اپنے والد کے قتل کے مقدمے میں اس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نامزد کیا تھا۔

مارچ 1978 میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے قتل کے مقدمے میں ذوالفقار بھٹو کو موت کی سنائی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ فروری 1979 میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 4 کے مقابلے میں 3 ججز کے اکثریتی فیصلے سے سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اسی فیصلے کے نتیجے میں 4 اپریل 1979 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔

اس کیس کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا عدالتی تنازع قرار دیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کئی دہائیوں تک ملکی اور بین الاقوامی قانونی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنتا رہا۔

سال 2011 میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھٹو پھانسی کیس کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا۔

یہ معاملہ کئی برس زیر التوا رہا، تاہم 2024 میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں نو رکنی بینچ نے اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کا فیصلہ کیا۔

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے 6 مارچ 2024 کو اس صدارتی ریفرنس پر تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے تسلیم کیا کہ سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا تھا۔ یوں عدالتِ عظمیٰ نے تقریباً 45 سال بعد اس کیس میں ہونے والی سنگین آئینی و قانونی غلطی کا باقاعدہ اعتراف کیا۔

4. تاحیات نااہلی کیس

یہ پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کے اہم ترین کیسز میں سے ایک ہے، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف سمیت کئی سیاست دانوں کے الیکشن لڑنے پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی۔

اس فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آئے تھے تاہم بعد میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اپریل 2016 میں انٹرنیشنل کنسورشم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے پاناما کی ایک مشہور لاء فرم ’موزیک فونسیکا‘ کی خفیہ دستاویزات جاری کیں، جنہیں ’پاناما لیکس‘ کا نام دیا گیا۔

ان دستاویزات میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دنیا کے کئی امیر ترین سیاست دانوں اور سربراہانِ مملکت نے ٹیکس بچانے یا اثاثے چھپانے کے لیے آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔ جس میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کے اہلِ خانہ کے نام بھی سامنے آئے تھے۔

اس معاملے کی چھان بین کے لیے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے متفقہ طور پر تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے نوازشریف، اسحاق ڈار اور جہانگیر ترین سمیت کئی سیاست دانوں کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حوالہ دیا تھا کہ آرٹیکل 62(ون ایف) کے تحت ہونے والی نااہلی مستقل اور تاحیات ہوگی۔ یہ کیس معروف انسانی حقوق کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا آخری کیس تھا، جنہوں نے کیس میں تاحیات نااہلی کے خلاف دلائل دیے تھے۔

تاہم جون 2023 میں پی ڈی ایم حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کی اور کاغذات نامزدگی سے انحراف ثابت ہونے پر نااہلی کی مدت پانچ سال مقرر کر دی۔

بعد ازاں تاحیات نااہلی کا معاملہ دوبارہ سامنے آیا تو سپریم کورٹ نے اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا، جس کی سربراہی خود چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کی۔

جنوری 2024 میں سپریم کورٹ نے 1-6 کی اکثریت سے تاحیات نااہلی کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نااہلی کی 5 سالہ مدت کو جائز قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے نظرثانی فیصلے میں قرار دیا کہ کسی شہری پر تاحیات انتخاب لڑنے پر پابندی لگانا آئین کے آرٹیکل 17(ٹو) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ انسان کی اصلاح کے لیے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ عدلیہ کسی کو زندگی بھر کے لیے نااہل کر کے توبہ یا بہتری کا متبادل راستہ بند نہیں کر سکتی۔

5. آرٹیکل 63 اے خلاف ورزی کیس

یہ وہ مشہور کیس ہے جس میں فلور کراسنگ یا پارٹی پالیسی کے خلاف حاصل کیے گئے ووٹوں کی وجہ سے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کی وزارتِ اعلیٰ کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔

آئین کا آرٹیکل 63 اے ارکانِ اسمبلی کو اپنی سیاسی جماعت سے غداری یا ’فلور کراسنگ‘ سے روکتا ہے۔ اس شق کے مطابق پارٹی سربراہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے رکن کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج سکتا ہے۔

مارچ 2022 میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد پارٹی کے چند ارکان کے منحرف ہونے کی خبریں سامنے آئیں تو اس وقت کے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کو ایک صدارتی ریفرنس بھیجا۔ اس ریفرنس میں منحرف ارکان کے ووٹ کی حیثیت کے حوالے سے سپریم کورٹ کی رائے طلب کی گئی تھی۔

اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے مئی 2022 میں دو کے مقابلے میں تین کی اکثریت سے اس ریفرنس کا فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے خلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا اور منحرف رکن اپنی نشست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

اس فیصلے کو قانونی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ماہرین نے اعتراض کیا کہ عدالت نے آئین کی تشریح کرنے کے بجائے خود سے آئین میں نئی شق داخل کر دی ہے کیوں کہ آئین میں ووٹ مسترد کرنے کا کوئی ذکر نہیں، صرف نااہلی کی سزا مقرر ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ اکتوبر 2024 میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت کی اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کو متفقہ طور پر کالعدم قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عدلیہ کا کام آئین میں الفاظ کا اضافہ کرنا یا دوبارہ لکھنا نہیں بلکہ اس کی تشریح کرنا ہے۔ منحرف رکن کی نااہلی کے لیے پارٹی قیادت الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا حق رکھتی ہے تاہم اسمبلی رکنیت ختم کرنے کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن ہی کرے گا۔

اس فیصلے کے محض دو ہفتے بعد وفاقی حکومت نے 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی۔ حکومت کو دو تہائی اکثریت کے لیے درکار چند ووٹوں کی کمی اپوزیشن جماعت نے پوری کر دی۔ پی ٹی آئی کے متعدد ارکان نے پارٹی قیادت کے سخت احکامات اور بائیکاٹ کی پالیسی کے خلاف جا کر حکومت کے آئینی بل کے حق میں ووٹ دیا۔

ماضی میں سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں اور ازخود نوٹسز کو جہاں سراہا گیا وہیں بعض اوقات ان پر شدید تنقید بھی ہوئی۔ ان میں سے چند کیسز پر نظرثانی ہوئی مگر اکثر کیسز میں دیے گئے فیصلے برقرار رہے۔

ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد پاکستان میں اب سپریم کورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کے لیے دو مختلف راستے موجود ہیں۔ عام قانونی معاملات میں سپریم کورٹ اب بھی ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور اس کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ کا ہی دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے۔ البتہ آئین کی تشریح اور بنیادی حقوق جیسے معاملات پر وفاقی آئینی عدالت ہی سب سے بڑا فورم ہے۔

نسلہ ٹاور اور مونال ریسٹورنٹ کیسز میں آئینی عدالت کے فیصلوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آئینی معاملات میں پاکستان کی ذیلی عدالتیں اور سپریم کورٹ بھی وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں کی پابند ہیں اور ان معاملات میں یہ عدالت ہی آخری اور حتمی اختیار رکھتی ہے۔

Read Comments