آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش سے عالمی معیشت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف ایران، امریکا یا اسرائیل تک محدود نہیں رہی، بل کہ اس کے اثرات دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں تک پہنچنے لگے ہیں۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی غیر محفوظ ہو گیا تو عالمی تجارت، تیل کی ترسیل، بحری جہاز رانی اور توانائی کی منڈیاں شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔
دنیا کی معیشت کا ایک بڑا حصہ چند اہم بحری راستوں پر انحصار کرتا ہے، جن میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ دونوں آبی گزرگاہیں مشرق وسطیٰ سے دنیا بھر تک خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان علاقوں میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بل کہ عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی ایک تنگ مگر انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ یہی راستہ نہر سویز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقا کے درمیان بحری تجارت کو ممکن بناتا ہے۔ سعودی عرب کی تیل برآمدات سمیت دنیا کے بڑی تجارتی مال بردار جہاز بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین فوری طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے باب المندب مشرق میں یمن اور مغرب میں افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے، جب کہ اسی راستے سے جہاز نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم اور یورپ تک پہنچتے ہیں۔ اسی محل وقوع کے باعث باب المندب مشرق وسطیٰ، افریقا اور یورپ کے درمیان سمندری تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے عالمی خام تیل کا تقریباً ایک تہائی، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا لگ بھگ پانچواں حصہ اور عالمی تجارت کا تقریباً 20 فی صد گزرتا ہے۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران اپنی تیل و گیس کی بڑی برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی بحری تجارت کا تقریباً 10 سے 12 فی صد حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے سے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، خوراک، صنعتی خام مال، کنٹینرز اور دیگر تجارتی سامان نہر سویز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقا منتقل کیا جاتا ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو فوری متاثر کر سکتی ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے پہلے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کر کے اپنی اہم دفاعی طاقت کا مظاہرہ کیا، جب کہ اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ تہران اپنے یمنی اتحادی حوثیوں کے ذریعے باب المندب میں بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اسی خدشے نے عالمی منڈیوں اور شپنگ کمپنیوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
اگرچہ آبنائے ہرمز اور باب المندب ایک دوسرے سے مختلف مقامات پر واقع ہیں، تاہم عالمی توانائی کی ترسیل میں دونوں کی اہمیت تقریباً یکساں سمجھی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عمان سے ملاتی ہے، جہاں سے دنیا کے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، جب کہ باب المندب بحیرہ احمر کے ذریعے نہر سویز تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرین دونوں گزرگاہوں کو عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔
اگر دونوں راستے ایک ہی وقت میں متاثر ہوئے تو دنیا کو ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں نہ صرف خام تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوگی بل کہ خوراک، صنعتی خام مال اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی سپلائی بھی سست پڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 14 جولائی کو ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا اگلے مرحلے میں اس کے بجلی گھروں، پلوں اور بعد ازاں توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پر فوجی دباؤ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک وہ امریکا کی شرائط کے مطابق مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کی دھمکی کے جواب میں اپنے یمنی اتحادی حوثیوں تک پیغام پہنچا دیا کہ اگر امریکا نے ایران کی توانائی تنصیبات یا بجلی گھروں کو نشانہ بنایا تو باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بند کرنے سمیت مختلف جوابی آپشنز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ تہران نے حوثیوں کو ممکنہ ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے یمن کے حوثی باغی پہلے بھی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ باب المندب کے ذریعے عالمی تجارت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے اسرائیل سے منسلک یا اس کی حمایت کرنے والے جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔
ان حملوں کے باعث دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بحیرہ احمر اور نہر سویز کا راستہ استعمال کرنا محدود کر دیا تھا اور جہاز جنوبی افریقا کے گرد طویل سمندری راستہ اختیار کرنے لگے تھے۔ اس تبدیلی سے نہ صرف سامان کی ترسیل میں کئی دن کی تاخیر ہوئی بل کہ مال برداری کے اخراجات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے تھے۔
صورتِ حال اس قدر سنگین ہوئی کہ امریکا اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جب کہ بین الاقوامی بحری اتحاد نے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے خصوصی مشن بھی تشکیل دیا تھا۔
حالیہ دنوں میں ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور حوثی قیادت کے بعض بیانات نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حوثی رہنما محمد الفرح نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر حملے جاری رکھے تو باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں کو ایک مشترکہ عملی حکمت عملی کے تحت بند کیا جا سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایسی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز دنیا پر دباؤ ڈالنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، تاہم باب المندب اس کا دوسرا اہم کارڈ ثابت ہو سکتا ہے۔ لندن کے کنگز کالج سے وابستہ سیکیورٹی امور کے ماہر اینڈریاس کریگ نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اگر امریکا نے ایران کے حساس فوجی یا بنیادی ڈھانچے پر حملے مزید بڑھائے تو تہران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب میں کشیدگی پیدا کر کے عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد تجزیہ کار موجودہ صورتِ حال کو براہ راست جنگ کے بجائے بتدریج بڑھتی ہوئی کشیدگی قرار دیتے ہیں، جہاں ہر فریق دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ تنازع خلیج فارس سے نکل کر بحیرہ احمر تک پھیل گیا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے، بل کہ دنیا بھر کی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سپلائی چین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے سربراہ عبدالعزیز نے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں کہا کہ حوثیوں کے پاس باب المندب میں جہاز رانی متاثر کرنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے، تاہم وہ تہران کی واضح ہدایت کے بغیر بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حوثیوں نے عالمی جہاز رانی کو براہ راست نشانہ بنایا تو امریکا اور اس کے اتحادی ایک مرتبہ پھر ان کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔
موجودہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب صرف دو آبی گزرگاہیں نہیں بل کہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگیں ہیں جن پر دنیا کی توانائی، تجارت اور سپلائی چین کا بڑا انحصار ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی مستقل رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرتی ہے، اور اگر دونوں راستے بیک وقت متاثر ہوئے تو عالمی معیشت کو کئی دہائیوں کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
