امریکی کانگریس میں 1 کھرب ڈالر سے زائد کا دفاعی بجٹ منظور، اسرائیل کو کیا ملے گا؟

بل کے حق میں ری پبلکن ارکان کی اکثریت نے ووٹ دیا، جبکہ 6 ڈیموکریٹ ارکان نے بھی اس کی حمایت کی
شائع 23 جولائ 2026 09:41am

امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے سخت سیاسی مقابلے کے بعد 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) کے تحت تقریباً ایک اعشاریہ پندرہ ٹریلین (1 کھرب 15 ارب) ڈالر سے زائد مالیت کا دفاعی بل معمولی اکثریت سے منظور کر لیا، تاہم بل میں اسرائیل کے ساتھ فوجی ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون بڑھانے کی شق پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق بل بدھ کے روز ایوانِ نمائندگان میں 216 کے مقابلے میں 212 ووٹوں سے منظور ہوا۔ زیادہ تر ارکان نے اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ دیا، تاہم 6 ڈیموکریٹ ارکان نے بل کی حمایت کی جبکہ 7 ریپبلکن ارکان نے اپنی ہی جماعت کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

یہ دفاعی بل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے دفاعی بجٹ کو گزشتہ سال کے 900 ارب ڈالر سے بڑھا کر تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کرنے کی درخواست کی ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث دفاعی اخراجات میں اضافہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔

بل میں ایک اہم شق اسرائیل کے ساتھ فوجی ٹیکنالوجی، دفاعی نظام اور سپلائی چین کے تعاون کو مزید وسعت دینے سے متعلق ہے، جس پر بعض ارکانِ کانگریس نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکا کی خودمختاری اور دفاعی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔

ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی، جو ایران کے خلاف جنگ پر وائٹ ہاؤس کی پالیسی کے ناقد سمجھے جاتے ہیں، نے ووٹنگ کے بعد سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج این ڈی اے اے پر حتمی ووٹ ہوا، جو افسوسناک طور پر ہماری فوجی ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کو اسرائیل کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے کہ سینیٹ میں یہ بل موجودہ شکل میں منظور نہیں ہوگا کیونکہ سیکشن 219 ہماری خودمختاری سے غداری کے مترادف ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے بھی بل کی بھاری لاگت پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب وائٹ ہاؤس سماجی بہبود کے مختلف پروگراموں کے اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، دفاعی بجٹ میں اتنا بڑا اضافہ مناسب نہیں۔

گزشتہ ہفتے سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے اس بل پر بحث شروع کرنے کی کوشش بھی روک دی تھی۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے اس موقع پر کہا تھا، یہ بل ایران کے خلاف حکومت کی جنگ کے لیے اجازت نامہ ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق این ڈی اے اے کو عام طور پر ایسا قانون سمجھا جاتا ہے جس کی منظوری ضروری ہوتی ہے، تاہم اس سال اس میں کئی متنازع شقیں بھی شامل ہیں۔

ان میں یوکرین کے لیے امداد اور سیو امریکا ایکٹ بھی شامل ہے، جس کے تحت ووٹنگ کے عمل پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات انتخابی دھاندلی کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں، جبکہ ناقدین اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔

اب یہ دفاعی بل منظوری کے لیے امریکی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی منظوری یقینی نہیں سمجھی جا رہی کیونکہ ڈیموکریٹ ارکان پہلے ہی اس کی لاگت اور بعض شقوں پر اپنے تحفظات ظاہر کر چکے ہیں۔

Read Comments