ڈاکٹر آکاش قتل کیس کے تینوں زیرِ تفتیش ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کارروائی کے دوران ملزمان کے مفرور ساتھیوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ کر دی۔
شائع 23 جولائ 2026 12:17pm

کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع تین تلوار کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 28 سالہ ڈاکٹر آکاش کے کیس میں گرفتار تینوں زیرِ تفتیش ملزمان گلشنِ معمار کے علاقے میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) سی آئی اے کے ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کے مطابق، ایس آئی یو کی ٹیم نے گلشنِ معمار کے عمر بروہی گوٹھ کے قریب نادرن بائی پاس کے پاس چھاپہ مارا تھا، تینوں ملزمان کو ان کے مزید ساتھیوں کی گرفتاری کی نشاندہی کے لیے ساتھ لایا گیا تھا۔

کارروائی کے دوران ملزمان کے مفرور ساتھیوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ کر دی، اور دونوں طرف سے فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس کی تحویل میں موجود تینوں ملزمان گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔

ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت سریش، رام چند اور انیل کے ناموں سے ہوئی ہے جنہیں ساؤتھ زون پولیس نے 15 جولائی کو ڈیفنس کے علاقے سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس لرزہ خیز واردات کے حوالے سے تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ گینگ کا سرغنہ اسلم عرف بابا اور اس کے دیگر کارندے قائد آباد کے رہائشی ہیں اور واردات کے وقت ان کے ساتھ ایک لڑکی بھی کار میں موجود تھی۔

ملزمان نے ڈکیتی کے فوراً بعد رقم کی تقسیم کی تھی جس میں ایک ملزم نے اپنے حصے میں آنے والی ایک لاکھ 25 ہزار روپے کی رقم ایزی پیسہ کے ذریعے گاؤں بھیجی جبکہ دوسرے ملزم رام چند نے اپنے حصے کے 70 ہزار میں سے 30 ہزار روپے مکان کے کرائے کی مد میں دیے۔

رام چند نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا تھا کہ اس کی ملاقات اسلم بابا سے 2021 میں لانڈھی جیل میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے اس گینگ کی بنیاد رکھی اور ایک ہی مہینے کے دوران بینکوں کے باہر متعدد بڑی ڈکیتیاں انجام دیں۔

ڈاکٹر آکاش کے قتل کی منظرِ عام پر آنے والی سی سی ٹی وی ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ملزم نے پہلے گارڈ اور پھر پیسوں کے بیگ کی چھین چھپٹ کے دوران ڈاکٹر آکاش پر براہِ راست فائرنگ کی۔

مقتول 28 سالہ غیر شادی شدہ ڈاکٹر آکاش پچھلے دو سال سے جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور ان کا تعلق ایک معروف کاروباری خاندان سے تھا۔ واقعے کے وقت گاڑی میں ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔

Read Comments