فرانس اور اسپین کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، مکانات خاکستر، لاکھوں افراد کا انخلا

تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ کی سمت تبدیل ہو گئی ہے اور اب یہ ملک کے ایک بڑے اہم شہر بورڈو کی طرف بڑھ رہی ہے۔
شائع 25 جولائ 2026 09:35am

فرانس اور اسپین کے جنگلات میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی ہے جس کے باعث دو لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔ دونوں یورپی ممالک میں یہ آگ اتنی تیزی اور شدت کے ساتھ پھیلی ہے کہ انتظامیہ اور فائر فائٹرز کے لیے اس پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ مسلسل گرمی کی لہر اور موسمیاتی تبدیلیوں کو اس ہولناک صورتِ حال کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

فرانس میں صورتِ حال اس قدر نازک ہو چکی ہے کہ ساحلی علاقوں سے لوگوں کو نکلنے کے لیے کشتیوں کا سہارا لینا پڑا ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد کا انخلا کرایا گیا ہے۔

فرانس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ کی سمت تبدیل ہو گئی ہے اور اب یہ ملک کے ایک بڑے اہم شہر بورڈو کی طرف بڑھ رہی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون نے صورتِ حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومتی بحران سے نمٹنے والے شعبے کو متحرک کر دیا ہے اور فوج کو بھی امدادی کاموں میں سول انتظامیہ کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حکام کے مطابق اس آگ کی وجہ سے اب تک درجنوں فائر فائٹرز زخمی ہو چکے ہیں، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق فرانس میں آگ لگنے کی وجوہات حادثاتی معلوم ہوتی ہیں۔

دوسری جانب اسپین میں بھی حالات انتہائی تشویشناک ہیں جہاں حکومت نے پہلی بار جنگل کی آگ کے باعث قومی ہنگامی حالت یعنی نیشنل ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

دارالحکومت میڈرڈ اور اس کے قریبی علاقوں سے تقریباً 60 ہزار افراد کو منتقل کیا گیا ہے جبکہ مزید 20 ہزار افراد کو گھروں میں محفوظ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں کے دورے کا اعلان کیا ہے۔

اسپین میں شدید گرمی اور تقریباً 39 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت نے آگ کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ میڈرڈ کے قریب مختلف مقامات پر لگی آگ ایک دوسرے سے مل کر ایک بڑی آگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

پولیس نے اس سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار بھی کیا ہے جس پر ممنوعہ علاقے میں مشینری استعمال کرنے کا الزام ہے جس کی چنگاری سے یہ آگ بھڑکی۔

فرانس اور اسپین دونوں ممالک نے صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین سے مدد کی اپیل کی ہے۔ جواب میں یورپی اتحاد کے دیگر ممالک بشمول اٹلی، یونان، کروشیا اور پرتگال نے اپنے فائر فائٹنگ جہاز، ہیلی کاپٹر اور دیگر امداد ان ممالک کو روانہ کر دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ دیہاتی علاقوں سے لوگوں کی منتقلی اور کھیتوں کا خالی رہ جانا بھی ان واقعات کی بڑی وجہ ہے کیونکہ اس سے درخت اور جھاڑیاں اب گھروں کے بالکل قریب تک پہنچ چکے ہیں۔

Read Comments