خلیجِ عمان میں ایل پی جی ٹینکر پر امریکی میزائل حملہ، 2 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ
خلیجِ عمان میں ایک ایل پی جی (مائع پیٹرولیم گیس) ٹینکر پر امریکی میزائل حملے کے نتیجے میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے مبینہ طور پر اس جہاز کو ایرانی گیس لے جانے والا ٹینکر سمجھ کر نشانہ بنایا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جمعہ کی سہ پہر بحیرہ عمان سے آبنائے ہرمز کی جانب آنے والے ایل پی جی ٹینکر پر امریکی فوج نے دو میزائل داغے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فورسز نے اس جہاز کو ایرانی گیس لے جانے والا ٹینکر سمجھ کر حملہ کیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق حملے کے نتیجے میں ٹینکر کے عملے کے دو افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ جہاز کا انجن روم مکمل طور پر تباہ ہوگیا، جس کے باعث ٹینکر ناکارہ ہو گیا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے ایرانی دعووں پر فوری طور پر کوئی ردعمل یا باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جس کے باعث ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
ادھر اسی روز تہران میں بھارتی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ موزمبیق کے پرچم بردار ایل پی جی ٹینکر ”میڈا“ پر، جو ایرانی سمندری حدود میں آبنائے ہرمز کے قریب موجود تھا، حملہ ہوا، تاہم جہاز پر سوار تمام 28 بھارتی شہری محفوظ ہیں۔
بھارتی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ موزمبیق کے پرچم بردار ایل پی جی ٹینکر میڈا پر حملہ ہوا، تاہم جہاز پر موجود تمام 28 بھارتی عملہ محفوظ ہے۔
تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں جس ٹینکر کا ذکر کیا گیا ہے، آیا وہی جہاز ہے جس کا حوالہ بھارتی سفارت خانے نے اپنے بیان میں دیا ہے یا کوئی اور ٹینکر۔
واضح رہے کہ خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو اعلان کیا کہ گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی۔
اس اعلان کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور تیل و گیس کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بھی ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔