یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر فوری جوابی میزائل حملے، کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی

حوثیوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ سعودی کارروائیوں کا جواب دیا جائے گا
شائع 25 جولائ 2026 12:44pm

یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے شہر جازان کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حوثیوں کا یہ دعویٰ سعودی عرب کی جانب سے یمن میں ان کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ خطے میں بحری راستوں کی سیکیورٹی اور ایران، امریکا و اتحادی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ سعودی شہر جازان پر میزائل حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

حوثیوں کا یہ بیان سعودی عرب کی جانب سے یمن کے شہر الحدیدہ اور دیگر علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا۔ حوثیوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ سعودی کارروائیوں کا جواب دیا جائے گا۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کے جواب میں حوثیوں کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

یمنی ذرائع کے مطابق سعودی حملوں میں الحدیدہ کی بحری تنصیبات، مواصلاتی عمارت اور کمران جزیرے میں موجود فوجی کیمپ متاثر ہوئے، جبکہ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں دو افراد زخمی ہوئے۔

اس سے قبل حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ حوثی گروپ نے رواں ہفتے دو سعودی بحری جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

سعودی حکام نے ان میں سے ایک حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ جہاز کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے پیدا کی گئی رکاوٹوں کے باعث بحیرۂ احمر سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا ایک اہم راستہ بن گیا ہے، جس کے باعث اس سمندری گزرگاہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، کیونکہ تہران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے مزید سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچنا امریکا کے لیے ناقابل قبول ہوگا۔

امریکی صدر کے مطابق فوجی کارروائیوں کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے روکنا ہے، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ بحرین، اردن اور کویت میں امریکی فوجی اہداف پر حملے کیے گئے، جبکہ پاسداران انقلاب نے بحرین میں ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا۔ تاہم امریکا، بحرین یا متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے ان دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی

Read Comments