ایران پر امریکی حملوں میں وقفہ، خلیجی ممالک آپس میں لڑ پڑے

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پھیلتی دکھائی دے رہی ہے
اپ ڈیٹ 25 جولائ 2026 03:12pm

ایران اور امریکا کے درمیان تیرہ روز تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد ہفتے کے روز امریکی کارروائیوں میں کمی آئی ہے اور مذاکرات کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ خطے میں سعودی اتحاد، یمنی حوثیوں، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔

ہفتے کی رات سعودی اتحادی افواج نے یمن کے علاقے الحدیدہ گورنریٹ میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔ قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، سعودی اتحاد نے کہا کہ یمن میں کی گئی کارروائی میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

سعودی اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یمن کی تمام بندرگاہیں جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں اور حالیہ کارروائی کا مقصد صرف حوثیوں کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

اتحادی افواج نے خبردار کیا کہ اگر حوثی باغیوں کی جانب سے جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو ان کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

سعودی اتحاد کے فضائی حملوں کے بعد یمنی حوثی باغیوں نے فوری طور پر جواب دیتے ہوئے سعودی عرب کے علاقے جازان پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا۔ حوثی ملیشیا کے مطابق حملے میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس دعوے کی فوری تصدیق نہیں کی گئی۔

ادھر خلیج عمان میں بھی ایک ایل پی جی ٹینکر پر امریکی میزائل حملے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فورسز نے مبینہ طور پر اس جہاز کو ایرانی گیس لے جانے والا ٹینکر سمجھ کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں عملے کے دو افراد مارے گئے۔

ایران کی جانب سے بھی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق کویت، بحرین اور عمان میں امریکی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جبکہ اردن کے الازرق ایئر بیس پر کارروائی میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا۔

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں امریکی جنگی طیاروں اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

تہران کی جانب سے کویت کے العدیری کیمپ میں موجود امریکی اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے تین گودام تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا، جبکہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے واچ ٹاور کو نشانہ بنانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

تاہم خطے میں کشیدگی کا دائرہ مزید بڑھتا نظر آیا جب امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے دعویٰ کیا کہ بحرین اور کویت نے خفیہ طور پر ایران کے اندر فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔

اخبار کے مطابق رواں ماہ بحرین اور کویت کے جنگی طیاروں نے ایران میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذخیرہ کرنے والے مراکز سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے ان کارروائیوں کے لیے بحرین اور کویت کو ایرانی اہداف سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق متحدہ عرب امارات بھی ایران کے خلاف متعدد حملوں میں شامل رہا ہے، تاہم ان دعوؤں پر متعلقہ ممالک کی جانب سے باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

Read Comments