مون سون نے پنجاب کو لپیٹ میں لے لیا، حادثات اور سیلابی خطرات میں اضافہ
پنجاب میں مون سون کے طوفانی اسپیل نے مختلف شہروں میں ہنگامی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ شدید بارشوں کے باعث شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جب کہ دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے پر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 22 افراد جاں بحق اور 183 زخمی ہو چکے ہیں۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، متعدد سڑکیں متاثر ہوئیں اور کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر رہی۔
لاہور میں گذشتہ رات ہونے والی بارش کے دوران گڑھی شاہو میں مکان کی چھت گرنے سے تین افراد جاں بحق ہو گئے، جب کہ جوہر ٹاؤن میں سڑک دھنسنے سے دس بڑے گڑھے پڑ گئے۔
قصور میں برساتی پانی میں ڈوب کر دو بچے جان کی بازی ہار گئے، جب کہ اوکاڑہ میں شدید بارش کے باعث پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ وہاں چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں ایک بچہ جاں بحق اور سات افراد زخمی ہوئے۔
وزیرآباد میں 221 ملی میٹر ریکارڈ بارش سے متعدد نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، جب کہ گجرات میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شیخوپورہ، فاروق آباد، پھالیہ، بھلوال، لالیاں، وہاڑی، سرگودھا اور ننکانہ صاحب میں بھی بارش نے معمولاتِ زندگی متاثر کیے۔ ننکانہ صاحب میں چھت گرنے سے تین افراد زخمی ہوئے جب کہ ایک بھینس بھی ہلاک ہو گئی۔
ادھر جہلم میں آٹھ گھنٹے تک مسلسل بارش ریکارڈ کی گئی، جب کہ کامونکی، حافظ آباد اور دیگر علاقوں میں بھی جل تھل ایک ہو گیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا، تاہم کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبہ بھر میں نکاسیِ آب کا آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ حکومتی دعوے کے مطابق جدید مشینری کی مدد سے متعدد شہروں میں برساتی پانی کی بروقت نکاسی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب شدید بارشوں کے باعث دریاؤں میں بھی پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ہیڈ مرالہ پر گزشتہ پانچ روز سے دریائے چناب میں بہاؤ میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جب کہ قادر آباد بیراج پر بھی سیلابی صورتِ حال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
قریبی آبادیوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کے طور پر ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بوٹنگ پوائنٹس بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔
گڈو بیراج پر بھی دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے، جس کے باعث متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ پنجاب میں مون سون کا موجودہ اسپیل 27 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے دوران مزید بارشوں، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور دریاؤں میں بہاؤ میں اضافے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مون سون بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں مزید 11 افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہوئے۔ ادارے کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں بارشوں کے باعث مجموعی طور پر 97 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ زخمیوں کی تعداد 297 ہو گئی ہے۔