حکومت نے معاہدہ پورا نہ کیا تو احتجاج دوبارہ ہوگا، کاکروچ جنتا پارٹی
بھارت میں طلبہ احتجاج کی قیادت کرنے والی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مقدمات واپس لینے اور آئندہ مظاہرین کے خلاف نئی ایف آئی آر درج نہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے، تاہم معاہدے کی تحریری نقل کا انتظار ہے۔
نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ 25 جولائی کو بی جے پی کے صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کے ساتھ ہونے والے تیسرے دور کے مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق کیا گیا۔
ان کے مطابق حکومت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جنتر منتر، 20 جولائی کے احتجاج اور ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں سے متعلق مظاہرین اور منتظمین کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں گی۔
آشوتوش رانکا نے کہا کہ مذاکرات کے دوران یہ بھی طے پایا کہ آئندہ کسی بھی احتجاج کے سلسلے میں مظاہرین یا منتظمین کے خلاف نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سی جے پی نے معاہدے کا تحریری مسودہ حکومت کو فراہم کر دیا تھا، جب کہ جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اپنی تحریری نقل منگل تک فراہم کر دے گی۔ دونوں فریقوں کے وکلا مسودے کا جائزہ لینے کے بعد اسے حتمی شکل دیں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ تنظیم اب حکومت کی جانب سے تحریری معاہدہ موصول ہونے کی منتظر ہے اور امید رکھتی ہے کہ کابینہ کے ایک سینئر وزیر کی جانب سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مظاہرین اور منتظمین کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں، گرفتار یا حراست میں لیے گئے طلبہ اور نوجوانوں کو فوری رہا کیا جائے اور آئندہ کسی بھی احتجاج کے سلسلے میں انہیں ہراساں، گرفتار یا ان کے خلاف مقدمات درج نہ کیے جائیں۔
آشوتوش رانکا نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے منگل تک معاہدے کی تحریری نقل فراہم نہ کی اور مختلف ریاستوں میں گرفتار یا زیر حراست طلبہ اور مظاہرین کو رہا نہ کیا گیا تو کاکروچ جنتا پارٹی ایک بار پھر احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جنتر منتر میں 20 سے 25 جولائی کے دوران جاری طلبہ احتجاج کے مقام پر موجود 2 ہزار 873 افراد کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔ پولیس کے مطابق ان افراد کی شناخت فیشل ریکگنیشن سسٹم (ایف آر ایس) اور دیگر تکنیکی ذرائع سے کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شناخت کیے گئے افراد میں 989 ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، جنسی زیادتی، بچوں سے زیادتی، اغوا، اسلحہ اور منشیات سے متعلق سنگین مقدمات درج ہیں۔
حکام کے مطابق اب اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا ان افراد کا 20 جولائی کو جنتر منتر میں ہونے والے پرتشدد واقعات سے کوئی تعلق تھا یا وہ کسی منظم منصوبہ بندی کے تحت احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔