ایران سے اچھی بات چیت ہو رہی ہے، جلد اہم پیش رفت متوقع ہے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر نے ایران سے جاری رابطوں، اسرائیل، روس اور ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق اہم بیانات دیے۔
شائع 27 جولائ 2026 10:35pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایران، اسرائیل، روس اور امریکی دفاعی صلاحیت سے متعلق کئی اہم بیانات بھی دیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشی گن روانہ ہونے کے بعد دورانِ پرواز طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اس وقت براہ راست رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس وقت موجود ہے اور انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران سے بات چیت کا سلسلہ خوش آئند انداز میں جاری ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ کوئی اہم پیش رفت ہو جائے گی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیاں نہ کی جاتیں تو تہران کبھی مذاکرات کی میز پر نہ آتا۔ ان کے بقول گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران پر شدید حملوں کے بعد ہی ایران نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی اور رابطے شروع ہوئے۔

ایران اور اسرائیل کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا مؤقف اسرائیل کے بہت قریب ہے، تاہم بعض معاملات پر معمولی اختلافِ رائے موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے معاملے پر قریبی ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

روس کے کردار پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے پوچھیں گے کہ آیا روسی سیٹلائٹس ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں حملوں کے لیے معلومات فراہم کر رہے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی اطلاعات درست ہوئیں تو اس معاملے پر بھی بات کی جائے گی۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ امریکا کے پاس ہر قسم کے ہتھیار وافر مقدار میں موجود ہیں اور ملک کو کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود وہ امریکی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہتھیاروں کی تیاری اور ذخائر میں اضافہ چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے باعث امریکا کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ اسلحہ موجود ہے اور دفاعی صلاحیت مزید بڑھائی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ جاری سفارتی رابطے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، تاہم امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

Read Comments