زین الدین زیڈان کا خواب پورا، فرانس کی فٹبال ٹیم کے پہلے مسلمان کوچ بن گئے
فٹبال لیجنڈ، فرانس کی ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان اور ریال میڈرڈ کے سابق کوچ زین الدین زیڈان فرانس کی قومی فٹبال ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ بن گئے۔ زیڈان نے فرانس کی قومی ٹیم کے ساتھ چار سال کا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت وہ 2030 کے فیفا ورلڈ کپ تک ٹیم کے ہیڈ کوچ رہیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زین الدین زیڈان کی بطور کوچ تقرری سابق کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپ کے عہدہ چھوڑنے کے دو ہفتے بعد عمل میں آئی ہے۔
ڈیڈیئر ڈیشامپ 14 سال سے فرانس کی قومی ٹیم کے ساتھ بطور کوچ وابستہ تھے تاہم فیفا ورلڈکپ 2026 کے سیمی فائنل میں فرانس کو اسپین کے ہاتھوں شکست اور انگلینڈ کے ہاتھوں 6-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جس کے بعد ڈیڈیئر ڈیشامپ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
کوچنگ کی ذمہ داری ملنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زین الدین زیڈان کا کہنا تھا کہ ’فرانس کی کوچنگ وہ واحد ذمہ داری تھی جو میرا خواب تھا۔ میں ہمیشہ اس ٹیم کو مستقبل کے کوچ کی نظر سے دیکھتا رہا، اسی لیے میں نے کسی کلب کی کوچنگ قبول نہیں کی۔ ریال میڈرڈ چھوڑنے کے بعد فرانس کی قومی ٹیم کی کوچنگ میری واحد خواہش تھی۔‘
زیڈان کا کہنا تھا کہ ڈیڈیئر ڈیشامپ نے جنوری 2025 میں ہی اپنے مستقبل سے متعلق فیصلہ کرلیا تھا۔ اسی دوران میری فرانسیسی فٹبال فیڈریشن کے صدر سے ملاقات ہوئی اور ہمارا معاہدہ طے پا گیا۔ اس سے پہلے بھی زیڈان مختلف مواقع پر قومی ٹیم کا کوچ بننے کی خواہش کا کھل کر اظہار کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ زیڈان فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے فرانس کی جانب سے مجموعی طور پر 108 بین الاقوامی میچز کھیلے اور 31 گول اسکور کیے۔
فیفا ورلڈ کپ 1998 کے فائنل میں برازیل کے خلاف ان کے دو گول آج بھی فرانسیسی فٹبال کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شامل ہیں۔ اسی ٹورنامنٹ میں فرانس نے پہلی مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
تاہم ان کے کیریئر کا ایک تلخ لمحہ بھی ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ 2006 کے ورلڈ کپ فائنل میں اٹلی کے خلاف میچ کے دوران فرانسیسی کپتان زین الدین زیڈان اور اطالوی ڈیفنڈر مارکو ماتراتزی کے درمیان گراؤنڈ میں چپلقش جاری تھی۔ اضافی وقت ملنے کے بعد 109ویں منٹ میں دونوں کھلاڑیوں کے درمیان کچھ جملوں کا تبادلہ ہوا اور زیڈان نے زور دار ٹکر سے اطالوی ڈیفنڈر کو زمین پر ڈھیر کردیا تھا۔
ریفری نے اس حرکت پر زیڈان کو ریڈ کارڈ دکھا کر گراؤنڈ سے آؤٹ کردیا تھا۔ بعد ازاں فرانس پنالٹی شوٹ آؤٹ میں اٹلی سے شکست کھا گیا تھا اور یہی میچ زیڈان کا ٹیم میں بطور کھلاڑی آخری میچ ثابت ہوا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد زیڈان نے 2013 میں ریال میڈرڈ کے معاون کوچ کی حیثیت سے کوچنگ کا آغاز کیا، پھر ریال کاسٹیلا کی کوچنگ کی ذمہ داری سنبھالی اور 2016 میں ریال میڈرڈ کے ہیڈ کوچ بن گئے۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق زیڈان کو ریال میڈرڈ کی تاریخ کے عظیم ترین کوچز میں شمار کیا جاتا ہے جو اپنی سادگی، وقار اور دیانت داری کی وجہ سے فٹبال کے حلقوں میں بے حد مشہور ہیں۔
زیڈان کی قیادت میں ریال میڈرڈ نے مسلسل 3 یوئیفا چیمپیئنز لیگ ٹائٹل، 2 لا لیگا ٹائٹل، 3 اسپینش سپر کپ، 2 یوئیفا سپر کپ سمیت متعدد بڑے اعزازات اپنے نام کیے، جو آج تک ایک منفرد ریکارڈ ہے۔
فرانس کی قومی ٹیم کی کوچنگ کا دیرینہ خواب پورا ہونے کے بعد زیڈان کو ملنے والی فرانسیسی ٹیم میں پہلے ہی عالمی معیار کے کئی کھلاڑی موجود ہیں، جن میں کیلین ایمباپے، عثمان ڈیمبیلے، ایڈرین رابیو، مائیکل اولیسے جیسے بہترین کھلاڑی شامل ہیں، تاہم انہیں خاص طور پر فل بیک پوزیشنز اور کسی حد تک سینٹر بیک کے شعبے میں بہتری لانے کا چیلنج درپیش ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق فرانسیسی فٹبال شائقین اب 2 اکتوبر کا انتظار کر رہے ہیں، جب زیڈان پہلی بار قومی ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے سائیڈ لائن پر نظر آئیں گے۔ دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ ان کا پہلا میچ اٹلی کے خلاف ہوگا، یعنی اسی حریف کے خلاف جس کے سامنے 20 برس قبل ان کا بطور کھلاڑی بین الاقوامی کیریئر اختتام پذیر ہوا تھا۔