راولا کوٹ: کالعدم کمیٹی کا شرپسند عابد گرفتار، رینجرز پر فائرنگ سے زخمی ہونے کا اعتراف
راو لاکوٹ میں تشدد کے پیچھے کالعدم ایکشن کمیٹی کا اشتعال انگیز ایجنڈا ایک بار پھر سامنے آگیا ہے، آزاد جموں و کشمیر کے امن کے درپے کالعدم کمیٹی کا پُرتشدد ایجنڈا ہرگزرتے دن کے ساتھ مزید واضح ہورہا ہے۔
راولاکوٹ سے گرفتار کالعدم کمیٹی کے شرپسند محمد عابد نے انکشاف کیا کہ میرا کالعدم کمیٹی کے مسلح گروپ سے تعلق ہے، رات کو ہم 10 سے 15 ساتھی رینجرز پر فائرنگ کے دوران زخمی ہوئے، ہماری فائرنگ سے رینجرز کے 4 سے 5 اہلکار زخمی ہوئے، کالعدم کمیٹی کے 100 سے 150 مسلح شرپسند اب بھی مختلف مقامات پر ہتھیار لے کر بیٹھے ہیں۔
گرفتار شرپسند نے مزید انکشاف کیا ہے کہ اسے تقریباً 2 ہفتے قبل بیرونِ ملک سے اسی مقصد کے لیے لایا گیا تھا۔ عابد نے اعتراف کیا ہے کہ وہ تربیت یافتہ اسنائپر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہجوم میں پیشہ ور اور تربیت یافتہ مسلح عناصرموجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق کالعدم کمیٹی کے احتجاج میں مسلح عناصر کی موجودگی ثبوت ہے کہ اس اشتعال انگیزی کے پیچھے پیشگی منصوبہ بندی اورواضح مقاصد کارفرما تھے، قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی تحمل، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں امن و امان کے قیام کے لیے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کا شرمناک اور گمراہ کن پروپیگنڈا
دوسری جانب مذموم مقاصد کے حصول کے لیے لاشوں کی سیاست کرنے والی کالعدم ایکشن کمیٹی کا شرمناک اور گمراہ کن پروپیگنڈا سامنے آگیا ہے۔ عوامی حمایت میں واضح کمی اور احتجاج کی بدترین ناکامی کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی کا انتہائی شرمناک طرزِ عمل کا انکشاف ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیومیں دیکھا جا سکتا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے اپنے جسموں پر سرخ رنگ کا مائع لگا کر حقائق کو مسخ کرنے کے لیے لاشیں دکھانے کا ڈرامہ کیا۔
ویڈیو میں یہ شرپسند سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے کے لیے زمین پر لیٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ جب ان شرپسندوں کے پاس پولیس جاتی ہے تو یہ نام نہاد لاشیں زندہ ہو جاتی ہیں، اس منظم حکمتِ عملی کا مقصد سوشل میڈیا پر گمراہ کن تاثر پیدا کرنا، ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا اور عوامی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اپنے احتجاج کی ناکامی کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی ریاستی مخالف جذبات بھڑکانے کے لیے جھوٹے، گمراہ کن اور اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کررہی ہے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے غیر مسلح ہونے کے دعوے آشکار
ادھر کالعدم ایکشن کمیٹی کے غیر مسلح ہونے کے دعوے آشکار ہوگئے جب کہ راولا کوٹ میں گرفتار کارندے نے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔
ویڈیو میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسند عناصر متعدد ہتھیاروں کے ساتھ واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں، علاقے میں انتشار پھیلانے کے لیے کالعدم تنظیم کے مسلح شر پسند عناصر کشمیری عوام سمیت سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے سپاہی علی عباس کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کے دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح کارندے زوہیب خالد کو گرفتار کرلیا۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے سرغنہ کی جانب سے بد امنی پھیلانے کے لیے کارندوں کو جدید امریکی ساختہ ایم فور رائفلیں فراہم کیے جانے کا انکشاف کیا گیا، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں گرفتار شرپسند کے قبضے سے بھی امریکی ساختہ رائفل برآمد کر لی گئی۔
گرفتار کارندے زوہیب خالد کا کہنا تھا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کیجانب سے رینجر ، پولیس کے ایک جوان کو مارنے پر ایک کروڑ روپے انعامی رقم مختص ہے، گرفتار کارندے کے انکشافات اور ویڈیو شواہد نے کالعدم ایکشن کمیٹی کےغیر مسلح ہونے کے نام نہاد دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔