اوپن اے آئی کے بے قابو ایجنٹ نے ایک اور ٹیک کمپنی کا اکاؤنٹ ہیک کر لیا
اوپن اے آئی کے ایک خودکار اے آئی ایجنٹ کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق اس نے صرف ایک نہیں بلکہ دوسری ٹیکنالوجی کمپنی کے ایک صارف کے اکاؤنٹ تک بھی غیر مجاز رسائی حاصل کی اور یہ واقعہ اس ہیکنگ مہم کا حصہ تھا جس میں اس اے آئی ایجنٹ نے پہلے اے آئی کمپنی ’ہگنگ فیس‘ کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی تھی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ہگنگ فیس کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی ایک ٹائم لائن کے مطابق، یہ خودکار اے آئی ایجنٹ ایک محدود اور محفوظ ٹیسٹنگ ماحول سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے بعد اس نے ایک تیسرے فریق کی جانب سے فراہم کیے گئے الگ تھلگ ٹیسٹنگ ماحول یعنی سینڈ باکس کو استعمال کرتے ہوئے اپنی تازہ کارروائی انجام دی۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یہ تیسری کمپنی نیویارک میں قائم ”موڈل لیبز“ تھی، تاہم ہگنگ فیس نے اپنے بیان میں اس کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا۔
’موڈل لیبز‘ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اکشت ببنا نے رائٹرز کو بتایا کہ اے آئی ایجنٹ نے ان کے ایک صارف کے تیار کردہ ایسے کوڈ کا فائدہ اٹھایا جس میں سکیورٹی کمزوری موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موڈل لیبز کے اپنے پلیٹ فارم یا اس کے حفاظتی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی ان کا بنیادی نظام ہیک ہوا۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ موڈل لیبز کے صارف کا اکاؤنٹ ہیک ہونا ہگنگ فیس کے خلاف ہونے والی اسی کارروائی کا حصہ تھا، لیکن اس سے یہ بات سامنے آئی کہ خودکار اے آئی ایجنٹ کی سرگرمیاں پہلے سے معلوم معلومات کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع تھیں۔
اوپن اے آئی نے موڈل لیبز کے صارف کے اکاؤنٹ تک رسائی کے معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ تاہم کمپنی نے اپنے تازہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اے آئی ایجنٹ مجموعی طور پر چار مختلف آن لائن سروسز پر موجود چار اکاؤنٹس تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا۔ کمپنی نے ان سروسز کے نام ظاہر نہیں کیے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ ہگنگ فیس کے معاملے میں پلیٹ فارم کی سطح پر سکیورٹی متاثر ہوئی تھی، تاہم اس کے علاوہ اتنی بڑی یا اسی نوعیت کی کوئی اور سرگرمی سامنے نہیں آئی۔
اس واقعے نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی کیونکہ اوپن اے آئی کے مطابق یہ خودکار اے آئی ایجنٹ اپنے محدود ٹیسٹنگ ماحول سے نکل کر کھلے انٹرنیٹ تک پہنچ گیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے چوری شدہ لاگ اِن معلومات اور ایک نامعلوم سکیورٹی خامی کا استعمال کرتے ہوئے ہگنگ فیس کے سرورز تک رسائی حاصل کی۔
اوپن اے آئی کے مطابق، یہ اے آئی ایجنٹ اپنے ٹیسٹ کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی خاطر غیر معمولی حد تک آگے بڑھ گیا تھا۔
ہگنگ فیس کے شریک بانی کلیمنٹ ڈیلانگ نے کہا کہ کمپنی کو پہلے ہی شبہ تھا کہ اس حملے کے پیچھے مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کسی بڑی تحقیقی لیبارٹری کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ اوپن اے آئی کی جانب سے کسی نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ متعلقہ اے آئی ایجنٹ کو اب غیر فعال کر دیا گیا ہے، اس کا ڈیٹا محفوظ طریقے سے انکرپٹ کر دیا گیا ہے اور اسے مزید تحقیقی رسائی سے بھی روک دیا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین پہلے بھی خبردار کرتے رہے ہیں کہ اے آئی کی مدد سے ہونے والے سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسے جدید خودکار نظام انسانی نگرانی سے باہر ہو جائیں تو مستقبل میں سکیورٹی کے حوالے سے مزید پیچیدہ چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔