'اپنے معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کریں': پاکستان کی امریکا اور ایران سے اپیل

خلیجی ممالک کا مشترکہ تحفظِ بحری امور پر اتفاق
شائع 29 جولائ 2026 01:14pm

مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ کے پیش نظر بین الاقوامی برادری اور خلیجی ممالک کی جانب سے کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ ”پاکستان کو خلیجی خطے اور خصوصاً سعودی عرب کو اس کشیدگی میں گھسیٹنے کی کوششوں پر شدید تشویش ہے“۔

پاکستانی مندوب نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کریں اور گزشتہ ماہ طے پانے والے مفاہمت نامے کے تحت اپنے معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کریں۔

اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ”مشرقِ وسطیٰ میں دائمی اور پائیدار امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ ختم نہیں ہو جاتا“۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہی خطے میں مستقل استحکام کی بنیاد ہے۔

دوسری جانب سفارتی محاذ پر خلیجی ممالک کے مابین بھی اہم رابطے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کو قطر، کویت اور بحرین کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں۔

ان کاؤنٹر پارٹس میں قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی، کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح اور بحرین کے وزیرِ خارجہ عبداللطیف بن راشد الزایانی شامل تھے۔

اس اعلیٰ سطحی گفتگو کے دوران تمام سفارت کاروں نے خطے میں امن و امان کی بحالی اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جاری کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

خلیجی وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ”آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب میں آزادانہ تجارتی جہاز رانی کا تحفظ انتہائی ضروری ہے تاکہ اس بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیکیورٹی اور معاشی نقصانات کو محدود کیا جا سکے“۔

تمام رہنماؤں نے ایران اور اس کی حمایتی ملیشیاؤں کی جانب سے عراق اور یمن سے کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ خلیج تعاون کونسل کے پلیٹ فارم سے مشترکہ حکمت عملی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ خطے کے دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔

Read Comments