امریکی سعودی حملوں پر عراق کا سخت ردِعمل، وزیرِ اعظم کا دورۂ سعودی عرب مؤخر
عراق کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے ٹھکانوں پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عراق کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حملوں کے بعد عراقی وزیراعظم کا سعودی عرب کا مجوزہ دورہ مؤخر کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق عراق کے صدر نیزار احمدی نے امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے ٹھکانوں پر کیے گئے حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں عراق کی خودمختاری اور سرکاری سیکیورٹی اداروں پر حملے کے مترادف ہیں۔
صدارتی بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ صدر نے زور دیا کہ عراقی سرزمین کو نہ کسی ہمسایہ ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے علاقائی یا عالمی تنازعات کا میدان بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر عراق کی خودمختاری اور استحکام کا احترام کرنے پر زور دیا۔
ادھر سابق عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے بھی امریکی اور سعودی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عراق کی خودمختاری اور اسلامی اخوت کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب عراقی حکومت سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات کر رہی تھی، اس لیے اس کارروائی کے وقت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
السودانی نے کہا کہ عراق کو بین الاقوامی قانون کے تحت حاصل تمام جائز حقوق محفوظ ہیں اور ملک کی سلامتی و استحکام پر کسی بھی قسم کی جارحیت ہرگز قابل قبول نہیں۔
عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) سے وابستہ مسلح گروپ حارکۃ النجبا نے بھی امریکا اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں محفوظ عراقی شہروں پر حملہ قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں حارکۃ النجبا گروپ نے حملوں کا بدلہ لینے، امریکی افواج کے انخلا اور امریکی و سعودی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔
مسلح گروپ نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ سیکیورٹی تعاون ختم کیا جائے اور ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید فضائی دفاعی نظام تعینات کیے جائیں۔ حارکۃ النجبا نے خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو امریکا اور سعودی عرب کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے عراقی حکومتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے وزیراعظم علی الزیدی کا سعودی عرب کا مجوزہ دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق انہیں جمعرات کو ریاض پہنچنا تھا، جہاں دوطرفہ تعاون، سیکیورٹی امور اور علاقائی صورتِ حال پر مذاکرات کے علاوہ مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع تھے۔ تاہم دورہ مؤخر کیے جانے کی سرکاری وجہ فوری طور پر نہیں بتائی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بدھ کی صبح عراق میں امریکا اور سعودی عرب کی مشترکہ کارروائیوں میں کم از کم 20 عراقی جنگجو مارے گئے، جس کے بعد بغداد میں سیاسی ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے۔