پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا، حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

گزشتہ 13 روز کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
اپ ڈیٹ 29 جولائ 2026 11:25pm

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 75 پیسے فی لیٹر سستا جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 24 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے۔

پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 390 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 30 جولائی سے ہوگا۔

مسلسل اضافوں کے باعث گزشتہ 13 روز کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت مجموعی طور پر 67 روپے 32 پیسے فی لیٹر بڑھ چکی ہے، جو حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں اضافوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ایک روز قبل حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 63 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 55 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول 335 روپے 81 پیسے اور ڈیزل 388 روپے 38 پیسے فی لیٹر پر پہنچ گیا تھا۔

یاد رہے کہ 17 جولائی کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور اوگرا روزانہ قیمتوں کا جائزہ لے کر اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا۔

اسی روز حکومت نے پیٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 354 روپے 35 پیسے تک پہنچ گئی۔

20 جولائی کو پیٹرول میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کر کے معمولی ریلیف دیا گیا، تاہم اسی روز ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 71 پیسے مزید مہنگا کر دیا گیا۔

اس کے بعد 21، 22، 23 اور 24 جولائی کو مسلسل چار روز تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پے در پے اضافے کیے گئے، جس سے دونوں مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بلند ہوتی رہیں۔

25 جولائی کو حکومت نے قیمتیں برقرار رکھیں، تاہم 27 جولائی کو پیٹرول میں معمولی کمی کرتے ہوئے اسے ایک روپے فی لیٹر سستا کیا گیا، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 37 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ اور کشیدہ صورت حال عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اتار چڑھاؤ اور امپورٹ کاسٹ کو فوری طور پر مقامی قیمتوں میں شامل کیا گیا ہے۔

Read Comments