حکومت کا حج کے خواہشمند افراد کے لیے 'شرعی سیونگ اسکیم' جاری کرنے کا فیصلہ

اس فریم ورک کے تحت پاکستانی شہری کئی سال پہلے ہی حج کے لیے اپنی رجسٹریشن اور فیس جمع کرا سکیں گے
شائع 30 جولائ 2026 11:16am

وزارتِ مذہبی امور نے پاکستانی عازمین حج کے لیے پہلی بار سال 2027 تا 2030 تک کے لیے چار سالہ حج پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔

حکومت پاکستان نے حج کا ارادہ رکھنے والے افراد کے لیے نئی حج سیونگ اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت عازمین صرف 10 فیصد حج اخراجات پیشگی جمع کرا کے کئی سال پہلے اپنی حج بکنگ کرا سکیں گے۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق اس اسکیم کا آغاز آئندہ دو سے تین ماہ میں متوقع ہے اور اسے مالیاتی اداروں کے تعاون سے چلایا جائے گا۔

وزارت مذہبی امور کے مطابق نئی حج سیونگ اسکیم مکمل طور پر شریعت کے اصولوں کے مطابق تیار کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے حج کا ارادہ رکھنے والے افراد اپنی رقوم حکومتی بچت پروگرام میں جمع کرا سکیں گے تاکہ وقت کے ساتھ آسانی سے حج کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

وزارت کا کہنا ہے کہ اسکیم کے آغاز کے بعد عازمین حج صرف 10 فیصد اخراجات پیشگی جمع کرا کے کئی سال پہلے ہی اپنی حج رجسٹریشن اور بکنگ کرا سکیں گے۔ وزارت مذہبی امور کے سینیئر حکام کے مطابق امکان ہے کہ یہ اسکیم آئندہ دو سے تین ماہ میں عملی طور پر کام شروع کر دے گی۔

حکام کے مطابق اس اسکیم کے تحت عازمین کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رقوم حکومت کے پاس ایک ڈپازٹ کی صورت میں موجود رہیں گی، تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان رقوم کو کن منصوبوں میں استعمال کیا جائے گا۔

پاکستان میں اس سے قبل بھی مختلف اسلامی بینکاری پروگراموں کے ذریعے عوام کو بچت کی ترغیب دی جاتی رہی ہے، تاہم پہلی مرتبہ خصوصی طور پر عازمین حج کے لیے شریعت کے مطابق بچت اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔

ماضی میں صوبائی حکومتیں بھی مختلف نوعیت کی ایڈوانس جمع کرانے والی اسکیمیں متعارف کرا چکی ہیں، جن کے تحت لوگوں نے ٹیکسوں اور فیسوں کی مد میں بڑی رقوم جمع کرائیں، لیکن ان اسکیموں کو شریعت کے مطابق نہیں بنایا گیا تھا۔ نئی اسکیم صرف حج کے خواہش مند افراد کے لیے مخصوص ہوگی۔

اس اقدام کو پاکستان کے طویل مدتی حج فریم ورک کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت پاکستانی شہری کئی سال پہلے ہی حج کے لیے اپنی رجسٹریشن اور فیس جمع کرا سکیں گے اور مرحلہ وار اپنی بچت مکمل کرتے رہیں گے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی کابینہ نے رواں ماہ کے آغاز میں چار سالہ حج پالیسی کی منظوری بھی دی تھی۔

وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری ابرار احمد مرزا نے بتایا کہ اس اسکیم کی باقاعدہ منظوری حاصل کی جا چکی ہے اور اسے مالیاتی اداروں کے تعاون سے چلایا جائے گا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص 2035 میں حج پر جانا چاہتا ہے تو وہ ابھی سے اس بچت اسکیم میں رقم جمع کرانا شروع کر سکتا ہے، جس سے مقررہ وقت تک حج کے اخراجات جمع کرنا اس کے لیے آسان ہو جائے گا۔ تاہم ابتدا میں اسے حج اخراجات کے 10 فیصد کے مساوی رقم جمع کرانا ہوگی۔

سیکرٹری مذہبی امور کے مطابق اس اسکیم میں عازمین کو دو طرح کے شریعہ اکاؤنٹس کی سہولت دی جائے گی۔ ایک ایسا اکاؤنٹ ہوگا جس میں منافع حاصل کیا جا سکے گا، جبکہ دوسرا بغیر منافع کے ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ منافع والے اکاؤنٹ میں حاصل ہونے والا نفع اس حد تک ہوگا کہ مہنگائی کے باعث مستقبل میں حج اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بوجھ عازمین پر کم سے کم پڑے۔

Read Comments