لاہور: بارشوں کے دوران چھتیں گرنے سے ایک ماہ میں 29 افراد جاں بحق
لاہور میں مون سون بارشیں شہریوں کے لیے زحمت بن گئیں، گزشتہ ایک ماہ کے دوران چھتیں گرنے کے چار بڑے حادثات میں 29 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ نے بوسیدہ اور خطرناک عمارتوں کی نگرانی تیز کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں حالیہ بارشوں کے دوران خستہ حال عمارتیں اور کمزور چھتیں شہریوں کے لیے خطرہ بن گئیں۔ گزشتہ رات باغبانپورہ کے علاقے کوٹلی پیر عبدالرحمان میں تین منزلہ مکان کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہو گئے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے کے وقت مکان کی ٹی آر گارڈر سے بنی چھت پر سالگرہ کی تقریب جاری تھی کہ اچانک چھت گر گئی، جس سے وہاں موجود افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا۔
اس سے قبل 27 جولائی کو شالیمار روڈ کے علاقے پٹھان کالونی میں بارش کے باعث ایک کچے مکان کی چھت گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 3 افراد زخمی ہوئے تھے۔
25 جولائی کو گڑھی شاہو کی ریلوے کالونی میں خستہ حال چھت گرنے سے میاں، بیوی اور ان کی بیٹی جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ ایک بچی زخمی ہوئی تھی۔
2 جولائی کو باغبانپورہ میں ایک نجی اسکول میں توسیعی کام کے دوران زیر تعمیر عمارت کی چھت گر گئی تھی، حادثے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ مزدوروں اور راہگیروں سمیت 4 افراد زخمی ہوئے تھے۔
30 جون کو کاہنہ کے علاقے میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا دلخراش واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 14 بچے جاں بحق جبکہ خاتون ٹیچر سمیت 8 بچے زخمی ہوئے تھے۔
ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید بارشوں کے دوران پرانی، خستہ حال اور خطرناک عمارتوں سے دور رہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں موجود خطرناک اور بوسیدہ عمارتوں کا فوری سروے کیا جا رہا ہے جبکہ مالکان کو ضروری اقدامات کرنے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔