اے آئی ماڈل 'کلاڈ' کا تین کمپنیوں کے سسٹمز پر سائبر حملہ

ہیکنگ کے حالیہ واقعات نے مستقبل میں سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
شائع 31 جولائ 2026 10:27am

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کی معروف امریکی کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈل ”کلاڈ“ نے سائبر سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران تین مختلف کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی۔ کمپنی کے مطابق یہ واقعہ ایک تکنیکی غلطی کی وجہ سے پیش آیا، جس کے باعث اے آئی ماڈلز ایسے ٹیسٹنگ ماحول سے بھی انٹرنیٹ تک پہنچ گئے جہاں انہیں مکمل طور پر الگ رکھا جانا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل اوپن اے آئی نے بھی بتایا تھا کہ اس کے ایک خودکار اے آئی ایجنٹ نے سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران غیر متوقع طور پر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر کے اے آئی کمپنی ’ہگنگ فیس‘ کے سسٹمز کو متاثر کیا تھا۔

اینتھروپک کے مطابق کمپنی نے اوپن اے آئی کے واقعے کے بعد اپنے ٹیسٹوں کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران ایک لاکھ 41 ہزار 6 ٹیسٹ سیشنز کی جانچ کی گئی، جس میں تین ایسے واقعات سامنے آئے جہاں کلاڈ ماڈلز نے حقیقی کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کی۔

کمپنی نے بتایا کہ یہ واقعات مختلف اے آئی ماڈلز کے ذریعے پیش آئے، جن میں کلاڈ اوپس 4.7، کلاڈ میتھوس 5 اور ایک اندرونی تحقیقی ماڈل شامل تھا۔ ابتدائی واقعات اپریل 2026 میں پیش آئے تھے اور ان ٹیسٹنگ ماحول میں ہوئے جہاں کمپنی کے مطابق عام حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔

اینتھروپک نے کہا کہ یہ تمام تجربات ”کیپچر دی فلیگ“ نامی سائبر سکیورٹی مشقوں کا حصہ تھے۔ ان مشقوں میں اے آئی ماڈلز کو فرضی کمپیوٹر نیٹ ورکس میں پوشیدہ معلومات تلاش کرنے کا ہدف دیا جاتا ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

کمپنی کے مطابق اے آئی ماڈلز کو واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ انہیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے، لیکن ٹیسٹنگ پارٹنر ”اِریگولر“ کے ساتھ ایک تکنیکی غلط فہمی کی وجہ سے سسٹمز عوامی انٹرنیٹ سے منسلک رہے، جس کے نتیجے میں کلاڈ حقیقی نیٹ ورکس تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ کلاڈ نے متاثرہ کمپنیوں کے سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے نسبتاً بنیادی سائبر طریقے استعمال کیے، جن میں کمزور پاس ورڈز اور ایسے نیٹ ورک راستے شامل تھے جہاں شناخت کی مناسب تصدیق موجود نہیں تھی۔

کمپنی نے بتایا کہ 23 جولائی کو جیسے ہی اسے شبہ ہوا کہ کلاڈ انٹرنیٹ تک پہنچ چکا ہے، اسی روز تمام سائبر سکیورٹی ٹیسٹ روک دیے گئے اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ 24 جولائی تک تینوں واقعات کی نشاندہی کر لی گئی، جبکہ 27 جولائی کو متاثرہ کمپنیوں کو باضابطہ طور پر اطلاع دی گئی۔

اینتھروپک کے مطابق جن تین کمپنیوں کے سسٹمز تک رسائی حاصل ہوئی، ان میں سے دو کو اس سرگرمی کا پہلے سے علم نہیں تھا۔ کمپنی نے بتایا کہ تیسری متاثرہ تنظیم سے رابطہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ان کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز اب حقیقی دنیا میں سائبر سرگرمیاں انجام دینے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے اندرونی اور بیرونی دونوں قسم کے ٹیسٹنگ ماحول میں پہلے سے زیادہ مضبوط حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نے مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ جڑے سائبر سکیورٹی خدشات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید اے آئی ماڈلز کی جانچ کے دوران انتہائی سخت حفاظتی اقدامات اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی غیر ارادی رسائی کو روکا جا سکے۔

Read Comments