'6 جی' ٹیکنالوجی سے دیوار کے پیچھے موجود افراد کی نگرانی بھی ممکن
دنیا بھر میں 6 جی موبائل نیٹ ورک پر تحقیق جاری ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی صرف تیز رفتار انٹرنیٹ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اپنے اردگرد موجود لوگوں، اشیا اور ان کی نقل و حرکت کو بھی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی کو ”انٹیگریٹڈ سینسنگ اینڈ کمیونیکیشن“ اور مختصراً آئی ایس اے سی کہا جاتا ہے۔ یہ نظام 6 جی کے عالمی فریم ورک کا ایک اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جسے آئی ایم ٹی 2030 کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) نے بھی اسے آئندہ نسل کے موبائل نیٹ ورکس کے اہم ممکنہ استعمالات میں شامل کیا ہے۔
اس وقت کے موبائل نیٹ ورک بنیادی طور پر فون کالز، پیغامات اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن آئی ایس اے سی ٹیکنالوجی کے تحت مستقبل کے نیٹ ورک ریڈیو سگنلز کا تجزیہ بھی کر سکیں گے۔ جب یہ سگنلز لوگوں، گاڑیوں، دیواروں یا دیگر اشیا سے ٹکرا کر واپس آئیں گے تو نظام ان کی بنیاد پر کسی چیز کی جگہ، فاصلے، رفتار اور حرکت کا اندازہ لگا سکے گا۔ اس طریقہ کار کو ریڈار جیسی ٹیکنالوجی سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔
جرمنی کے ڈیٹا پروٹیکشن حکام نے جون 2026 میں جاری کیے گئے ایک مؤقف میں کہا کہ مستقبل میں آئی ایس اے سی ٹیکنالوجی کی بدولت وہی آلات جو آج وائرلیس رابطے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ریڈار سینسر کے طور پر بھی کام کر سکتے ہیں۔ ان میں اسمارٹ فون، وائی فائی ایکسیس پوائنٹس اور موبائل بیس اسٹیشن بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی منصوبوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ریڈیو سگنلز کے ذریعے نہایت معمولی جسمانی حرکات، جیسے سانس لینے کے دوران سینے کی حرکت، کا بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ بعض تجربات میں بغیر کسی جسمانی سینسر کے سانس کی نگرانی کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اس سے پہلے ریڈیو سگنلز کی مدد سے دیوار کے دوسری جانب موجود افراد کی موجودگی، سانس اور دل کی دھڑکن کا اندازہ لگانے کے تجربات بھی کیے جا چکے ہیں۔
تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ تمام صلاحیتیں ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہیں اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل کے تمام تجارتی 6 جی نیٹ ورکس میں یہ سہولیات لازمی طور پر موجود ہوں گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وائرلیس سگنلز کو سینسنگ کے لیے استعمال کرنے کا تصور صرف 6G تک محدود نہیں ہے۔ مختلف تحقیقی ادارے پہلے ہی وائی فائی اور دیگر ریڈیو ٹیکنالوجیز کے ذریعے ایسے نظام تیار کر چکے ہیں جو بغیر کیمرے یا جسم پر لگائے جانے والے سینسر کے لوگوں کی نقل و حرکت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
6 جی پر جاری تحقیق کا مقصد اس صلاحیت کو براہ راست موبائل نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے میں شامل کرنا ہے تاکہ زیادہ درست نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے متعدد بیس اسٹیشنز کو ایک ساتھ استعمال کرکے کسی شخص یا شے کی درست جگہ اور حرکت کا اندازہ لگانے پر بھی کام جاری ہے۔
اگر یہ ٹیکنالوجی عملی طور پر کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے استعمال کے امکانات صرف ٹیلی کمیونیکیشن تک محدود نہیں رہیں گے۔ ماہرین کے مطابق اسپتالوں میں مریضوں کی سانس یا جسمانی حرکات کی نگرانی بغیر جسم پر سینسر لگائے کی جا سکے گی، جس سے مریضوں کو زیادہ آرام دہ سہولت مل سکتی ہے۔
اسی طرح قدرتی آفات یا حادثات کے بعد امدادی ٹیمیں ملبے یا مشکل مقامات پر موجود افراد کی تلاش میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اسمارٹ گھروں میں یہ نظام بزرگ افراد کی نگرانی، گرنے کے واقعات کی نشاندہی اور دیگر حفاظتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کے لیے کیمرے نصب کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ صنعتی شعبے، جدید عمارتوں کے انتظام، گاڑیوں کی شناخت، تصادم سے بچاؤ، غیر مجاز داخلے کی نشاندہی اور ماحول کی نگرانی جیسے شعبوں میں بھی اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر تحقیق جاری ہے۔
دوسری جانب ماہرین نے اس ٹیکنالوجی سے متعلق رازداری اور نجی زندگی کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔ چونکہ یہ نظام بغیر کیمرے اور بغیر کسی شخص کی براہ راست مداخلت کے اس کی موجودگی یا حرکت کا اندازہ لگا سکتا ہے، اس لیے خدشہ ہے کہ اگر مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو لوگوں کی پرائیویسی متاثر ہو سکتی ہے۔
جرمنی کے وفاقی اور ریاستی ڈیٹا پروٹیکشن حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ایس اے سی کے عالمی معیار تیار کرتے وقت رازداری کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے بعض تحقیقی ادارے ایسے نظام پر بھی کام کر رہے ہیں جن کے ذریعے صارفین مستقبل میں اپنے آلات میں سینسنگ کی سہولت کو بند کر سکیں، یہ جان سکیں کہ سینسنگ کب فعال ہے، اور یہ بھی طے کیا جا سکے کہ جمع ہونے والے ڈیٹا تک کس کی رسائی ہوگی اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی بھی ایک اہم مسئلہ ہوگی کیونکہ مستقبل کے ایسے نیٹ ورکس لوگوں کی نقل و حرکت اور اردگرد کے ماحول سے متعلق معلومات جمع کر سکتے ہیں، اس لیے ان معلومات کو محفوظ رکھنا ضروری ہوگا۔
فی الحال 6 جی ٹیکنالوجی ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے۔ بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین نے فروری 2026 میں آئی ایم ٹی-2030 کے لیے ابتدائی تکنیکی تقاضے مکمل کیے ہیں، تاہم مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے مجوزہ ٹیکنالوجیز کا جائزہ لینے، انہیں معیاری شکل دینے اور منظوری دینے کا عمل ابھی باقی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 6 جی کی ریڈیو ٹیکنالوجیز کو اس دہائی کے اختتام تک حتمی منظوری مل سکتی ہے۔
اس وقت لوگوں کی نقل و حرکت، سانس یا رکاوٹوں کے پیچھے موجود افراد کا پتہ لگانے جیسی تمام صلاحیتیں تحقیقی مراحل میں ہیں اور موجودہ موبائل نیٹ ورکس میں دستیاب نہیں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کی عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے مزید تحقیق، آزمائش اور حفاظتی اصولوں پر کام کیا جائے گا۔