ملک میں نئے صوبوں کی گونج اور سوشل میڈیا پر زیرِ گردش نقشہ، آئین کیا کہتا ہے؟
پاکستان میں ایک مرتبہ پھر نئے صوبوں کی بحث چھڑگئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے نقشے زیرِ گردش ہیں جس میں ملک کے چاروں صوبوں کو انتظامی یونٹس کی بنا پر تقسیم دکھایا گیا ہے۔
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کا معاملہ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی اس معاملے پر گفتگو ہوتی رہی ہے لیکن وفاقی وزیر محسن نقوی کے بیان کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ زبان زدِ عام ہے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ہم جس نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، وہ ناکام ہو چکا ہے۔ ملک کے حالات بہتر بنانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں کیوں کہ جب تک یہ نظام برقرار رہے گا، ملک کے حالات میں بہتری نہیں آئے گی۔
محسن نقوی کے اس بیان کے بعد بعض حلقے نئے اتنظامی یونٹس بنانے کو وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں جب کہ بعض اس تجویز پر تنقید کرتے نظر آرہے ہیں۔
وفاقی وزیر اور استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ہر صوبے کو انتظامی بنیادوں پر تین، تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان میں ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو سرکاری کاموں کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومتوں تک جانا پڑتا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس بننے سے عوام کے مسائل گھر کی دہلیز پر حل ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’اگر ایسا ہوجائے تو کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ ہاں، اگر کسی کی ’بادشاہت‘ میں کمی آتی ہے تو وہ ایک الگ بات ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے محسن نقوی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’پنجاب کے چارسے پانچ، سندھ کے تین سے چار، خیبر پختونخوا کے تین اور بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، اس میں بھی مزید صوبے بنائے جانے چاہئیں۔‘
بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ نئے صوبے ضروری تو ہیں لیکن اس کے لیے عوام کی رائے جاننا بھی بہت ضروری ہے۔
نئے صوبوں سے متعلق حکومتی ارکان کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک نقشے میں چاروں صوبوں کو 18 مختلف انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبوں میں تقسیم دکھایا گیا ہے۔
وائرل نقشے میں پنجاب کو 6، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو 4،4 جب کہ سندھ کو 3 نئے صوبوں میں تقسیم دکھایا گیا ہے جب کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلستستان بھی الگ انتظامی یونٹ کی صورت میں موجود ہیں۔
اس نقشے کی تاحال کسی حکومتی عہدیدار نے تصدیق نہیں کی البتہ یہ نقشہ وفاقی وزرا کے بیانات سے کسی حد تک مشابہ دکھائی دیتا ہے۔
پیپلزپارٹی ماضی میں جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ کرتی آئی ہے مگر سندھ میں نئے صوبے کے مطالبے کی مخالفت کرتی ہے۔ مسلم لیگ ن سمیت چند دیگر سیاسی جماعتیں خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبے کی حمایت کرتی ہیں تاہم عوامی نیشنل پارٹی اس تجویز کی سخت مخالف ہے۔
وفاقی وزیر خواجہ آصف نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بے شک نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں تاہم اس کی بنیاد لسانیت نہیں بلکہ قومی مفاد ہونا چاہئے۔ انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اور گوادر کو بھی وفاق کے ماتحت کیا جانا چاہیے۔
نئے صوبوں سے متعلق سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔
احمد منصور نامی صارف کہتے ہیں کہ گُڈ گورننس کے لیے انتظامی یونٹس اہم ہیں تاہم انہوں نے سوال اٹھایا ’کیا نئے صوبے یا چھوٹے انتظامی یونٹس سے میرٹ کا قتل، کرپشن، اقربا پروری واقعی رک جائے گی؟‘
انہوں نے علیم خان کے بیان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں پہلے ہی تین چار بادشاہتیں ہیں، آپ چھوٹی چھوٹی مزید بھی بنا دیں گے تو کیا نظام کی بنیادی برائیاں ٹھیک ہوجائیں گی۔ اس کا حل کیا ہے؟‘
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’ذرا سوچیں چھوٹے شہروں میں اسپتال، تعلیمی ادارے اور سہولیات میسر ہوں گی تو لوگ بڑے شہروں کا رخ کیوں کریں گے؟، جتنے زیادہ صوبے اتنی بہترین گورننس، اقتدار نیچے تک منتقل ہوگا‘۔
پیپلزپارٹی کے رہنما قاسم گیلانی کا کہنا تھا کہ ’محسن نقوی ٹھیک کہتے ہیں، ہم 21ویں صدی میں ملک کو ایسے نظام کے ساتھ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو 20 ویں صدی کی ضروریات کے لیے 19 ویں صدی میں تیار کیا گیا تھا۔‘
بعض حلقے حکومت کی جانب سے نئے صوبے بنانے کے بجائے مضبوط بلدیاتی نظام کو مسائل کا حل قرار دیتے ہیں۔
صحافی نعمت خان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کی مہم کے روح رواں میاں عامر محمود نے گزشتہ سال کراچی میں صحافیوں کے ساتھ ایک نشست کی تھی۔ جس میں تمام سینئر صحافیوں نے اس مطالبے کو مسترد کیا اور مضبوط و بااختیار مقامی حکومت کے قیام پر زور دیا تھا۔
نعمت خان کے مطابق وسعت اللہ خان سمیت سینئر صحافیوں نے تجویز دی تھی کہ نئے صوبے بنانے کا سلسلہ ’جنوبی پنجاب‘ صوبے سے شروع کیا جائے، اور اسے ایک کامیاب ماڈل بنا کر قابل تقلید مثال کے طور پر پیش کیا جائے۔ مگر انہوں نے یہ تجویز اس بنیاد پر مسترد کر دی کہ جنوبی پنجاب کے لوگ خود ایسا نہیں چاہتے۔
سابق سینیٹر مشاہد حسین نے نئے صوبوں کی تجویز کو احمقانہ حل قرار دیا۔ ان کے بقول صوبے پہلے ہی بحران کا شکار ہیں۔ ایسے وقت میں نئے صوبے بنانے سے عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔
مشاید حسین کا کہنا تھا کہ کہ مسئلہ گورننس کا ہے اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے کوئی راکٹ سائنس درکار نہیں ہے۔ تقرریاں اور ترقیاں میرٹ کی بنیاد پر ہوں، اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل ہوجائیں تو سب کچھ بہتر ہوسکتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بالفرض اگر نئے صوبے بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے لیے آئین کیا راستہ تجویز کرتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 239 میں نئے صوبوں کی تشکیل یا کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے کا طریقہ کار موجود ہے۔ اسی آرٹیکل کی شق 4 کے مطابق جس صوبے کو تقسیم کرنا مقصود ہو سب سے پہلے اس صوبے کی اسمبلی میں نئے صوبے کے قیام کی آئینی قرارداد پیش کی جائے گی۔
اس قرارداد کا صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے پاس ہونا لازمی ہے۔ اگر صوبائی اسمبلی اسے مسترد کر دے تو یہ معاملہ وہیں ختم ہو جائے گا۔
صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد نئے صوبے کے قیام کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے آئینی ترمیم پاس کرانا بھی لازمی ہے، اس کے لیے بھی دونوں ایوانوں کے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہے۔
اگر صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ تینوں دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے کی منظوری دے دیں تو اسے حتمی منظوری کے لیے صدرِ پاکستان کو بھیجا جاتا ہے۔ صدر کے دستخط کرتے ہی وہ بل قانون بن جاتا ہے اور سرکاری طور پر ایک نیا صوبہ وجود میں آسکتا ہے۔
چوں کہ اس وقت قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں کسی بھی ایک سیاسی جماعت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنی تقریر میں زور دیا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اس معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔