ایران پر سخت حملے کریں گے، ایک وقت آئے گا وہ بولیں گے اب ہم مزید برداشت نہیں کرسکتے: صدر ٹرمپ

امریکی حملوں میں ایران کو شدید نقصان پہنچا، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے: امریکی صدر
شائع 31 جولائ 2026 10:55pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر سخت حملے کریں گے، ایک وقت آئے گا وہ خود بولیں گے اب ہم مزید برداشت نہیں کرسکتے، امریکی حملوں میں ایران کو شدید نقصان پہنچا، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔

جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس، صحافیوں سے گفتگو اور امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایران، غزہ، حماس کی غیر مسلح کرنے اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر اظہار خیال کیا۔

ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ امریکی حملے فوری طور پر ختم ہونے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم انہیں بہت سخت نشانہ بنائیں گے اور ایک وقت آئے گا جب وہ کہیں گے کہ اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔“

امریکی صدر کے مطابق امریکا کا مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں۔

فاکس نیوز کی سینئر وائٹ ہاؤس رپورٹر جیکی ہائنرچ سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ”صورت حال اچھی جا رہی ہے، ہم انہیں سخت ضربیں لگا رہے ہیں، انہیں بری طرح متاثر کر رہے ہیں اور مسلسل کامیاب ہو رہے ہیں، آخرکار ان کے پاس واپس جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔“

ایران کے ساتھ حالیہ حملوں اور جنگ بندی سے متعلق سوال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا صرف کامیابی چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم بہت اچھا کر رہے ہیں، ہم حالات کے مطابق زیادہ سے زیادہ نرمی سے کام لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایران کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔“

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ محدود صلاحیتیں موجود ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق، ”یہ معاملہ بہت سادہ ہے، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو پورا مشرق وسطیٰ تباہ ہو جائے گا۔“

امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کو 5 ماہ گزر چکے ہیں جب کہ جون میں ہونے والا جنگ بندی معاہدہ چند ہفتوں بعد ہی ناکام ہو گیا تھا۔

صدر ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد بار ایران کے اہم انفراسٹرکچر، بشمول بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں، اگرچہ اب تک ایسے حملوں کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایران پر ”شدید نوعیت کے حملوں“ کی نئی لہر کی گئی تاہم جمعے کے روز مزید حملوں کے بارے میں کوئی نئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اندرونِ ملک بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف 28 فیصد امریکی شہری ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں جب کہ اس تنازع کے باعث امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں سمیت دیگر معاشی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔

غزہ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس کی غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایک ”مفاہمت“ موجود ہے اور اسرائیل نے اس حوالے سے مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا معاہدہ ممکن نہیں ہوگا لیکن یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ممکن ہوگا۔“

امریکی صدر کے مطابق اگر چار یا پانچ ماہ پہلے ایسی کوشش کی جاتی تو یہ معاہدہ ممکن نہ ہوتا جب کہ ان کے بقول ایران کے خلاف امریکی کامیابیوں نے بھی اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے لیے ایک بڑا قدم ہے اور دنیا اس پیش رفت پر حیران بھی ہے اور اسے اہم کامیابی بھی قرار دے رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ غزہ کے نئے امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے امریکا اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کریں گی جب کہ حماس مرحلہ وار اپنے ہتھیار ترک کرے گی تاہم انہوں نے اس پیچیدہ عمل کے مختلف مراحل کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ“اسرائیل اس معاہدے پر بہت خوش ہے اور اس نے اسے قبول کرنے میں مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔“ تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار نے منصوبے کے بعض اہم نکات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی مکمل غیر مسلحی کسی بھی عمل کے آغاز کی بنیادی شرط ہے۔

اسرائیلی عہدیدار کے مطابق جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی، اسرائیلی افواج غزہ میں قائم اپنی نام نہاد ”ییلو لائن“ سے انخلا نہیں کریں گی۔

صدر ٹرمپ نے اس اختلاف کے باوجود معاہدے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اتار چڑھاؤ آ سکتے ہیں کیوں کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے تاہم ان کے بقول یہ معاہدہ خطے میں امن کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Read Comments