اسپین میں زبردستی گھسنے والے تارکینِ وطن کی واپسی، 57 ہلاکتیں
اسپین نے کہا ہے کہ شمالی افریقہ میں واقع اپنے خودمختار علاقے سیوٹا میں تارکین وطن کے غیر معمولی داخلے کی لہر پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ سرحد عبور کرنے والے 50 ہزار سے زائد افراد میں سے زیادہ تر رضاکارانہ طور پر واپس مراکش چلے گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہسپانوی حکومت کے سیوٹا میں نمائندے کا کہنا ہے کہ سرحد کے اسپین والے حصے سے اب تک 57 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مراکش کی جانب بھی مزید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کچھ افراد سمندر میں ڈوب گئے جبکہ کچھ سرحدی باڑ کے قریب موجود پتھریلے راستے پر چڑھنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ میں کچلے گئے۔
اسپین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعرات کی صبح سے تقریباً 50 ہزار افراد نے خشکی اور سمندر کے راستے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم جمعہ کی شام تک 48 ہزار 300 افراد واپس جا چکے تھے۔
دوسری جانب سیوٹا کی مقامی حکومت کے سربراہ خوان جیسس ویواس نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں سرحد عبور کرنے والوں کی تعداد 60 ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
سرحد پر حالات کشیدہ رہے، جہاں مراکشی سیکیورٹی فورسز نے مزید لوگوں کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جھڑپوں کے دوران ایک بس اور سات گاڑیاں بھی جل گئیں۔ دوسری جانب اسپین نے اپنی فوجی گاڑیاں سرحد پر تعینات کیں، جبکہ کئی تارکین وطن سرحد پار نہ کرسکے جس کے باعث مراکش کی پہاڑیوں پر انتظار کرتے رہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینکڑوں افراد بعد میں سرحدی چوکیوں اور باڑ میں موجود راستوں سے واپس مراکش جاتے دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیوٹا میں نہ کھانے کا انتظام تھا اور نہ رہنے کی جگہ۔
طنجہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان مراکشی نے بتایا کہ سچ پوچھیں تو مجھے خود نہیں معلوم کہ میں یہاں کیوں آیا تھا، اب واپس جا رہا ہوں۔ کل دوپہر کے بعد سے میں نے کچھ نہیں کھایا، حالانکہ میرے پاس کچھ پیسے بھی تھے۔ جو ہم کر رہے ہیں، نہ یہ اچھا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی خوشی ہے۔
20 سالہ ایمن، جو مراکش کے ساحلی شہر العرائش کا رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ہیئر ڈریسر ہے، نے بتایا کہ وہ بدھ کے روز پانچ گھنٹے تیر کر سیوٹا پہنچا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیوٹا کے اندر کھانے کو کچھ نہیں تھا اور اسپین کی فوج نے ہمیں بہت سختی سے باہر نکال دیا۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز جمعہ کو سیوٹا پہنچے، جہاں کچھ مظاہرین نے ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر سرحد عبور کرنے کے واقعے کو اسپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی“ قرار دیتے ہوئے کہا، “حکام غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو مراکش کے مکمل تعاون سے تیزی سے واپس بھیج رہے ہیں۔
سیوٹا اور میلیلا شمالی مراکش میں واقع اسپین کے خودمختار شہر ہیں اور یہی یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں ہیں۔ یہاں پہلے بھی تارکین وطن کی جانب سے یورپ پہنچنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، تاہم اتنی بڑی تعداد میں ایک ساتھ سرحد عبور کرنے کا واقعہ پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔
اس واقعے کے بعد یورپ میں بھی اختلافات پیدا ہو گئے۔ اٹلی نے اعلان کیا کہ وہ اسپین کے ساتھ یورپی یونین کے شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ آمدورفت کو عارضی طور پر معطل کر رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان فضائی اور بحری سفر متاثر ہوگا۔ اسپین نے اس فیصلے کو یورپی یونین کے معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
یورپ کی دائیں بازو کی جماعتوں نے اس بحران کا ذمہ دار اسپین کی نسبتاً نرم امیگریشن پالیسی کو قرار دیا۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے دعویٰ کیا کہ اسپین کی عام معافی (ایمنسٹی) کی پالیسی نے انسانی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی کی ہے، جس پر اسپین نے احتجاج کرتے ہوئے اطالوی سفیر کو طلب کر لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیوٹا میں جو کچھ ہوا وہ حملے جیسا لگتا ہے۔ اگر ریپبلکن دوبارہ منتخب نہ ہوئے تو ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا، بلکہ اس سے بھی زیادہ خراب۔
امریکی محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اس بحران کا ذمہ دار اسپین کی امیگریشن پالیسیوں کو ٹھہرایا۔ بیان میں کہا گیا، یہ ناقابل قبول واقعہ اسپین کی حکومت کی ان پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے جنہوں نے یورپ میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہجرت کو ممکن بنایا۔ ہم امریکی شہریوں کے تحفظ اور اپنے یورپی اتحادیوں کی مدد کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
ادھر فرانس کے وزیر داخلہ لاراں نونیز نے اعلان کیا کہ ہفتے تک اسپین سے ملحقہ سرحد پر پولیس کی تعداد پانچ گنا بڑھا دی جائے گی، جبکہ فضائی نگرانی اور ٹرینوں میں گشت بھی مزید سخت کیا جائے گا۔
اسپین کی پولیس ایسوسی ایشن اے یو جی سی نے کہا کہ جمعرات کے روز سرحد پر پولیس اہلکاروں کی تعداد بہت کم تھی، جس کی وجہ سے اتنے بڑے ہجوم کو روکنا ممکن نہیں ہو سکا۔