ٹرمپ کا ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے اور ویک اینڈ پر حملے کا منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور خطے کے کئی ممالک کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت متعدد علاقائی رہنماؤں نے بھی کشیدگی کم کرنے اور جنگ سے گریز پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے اور ویک اینڈ پر حملے کا منصوبہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام دنیا کے مستقبل اور ایران کی بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے بھی حملے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر امریکا اور اس کے اتحادی تباہ کن کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی ولی عہد نے ایران پر امریکا کی جانب سے بڑے حملوں کے ممکنہ منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے اور فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔
دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان نے بھی امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق قطری ثالثوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور عمانی حکام سے رابطے کیے ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔
ادھر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال رکھنے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے کی کوششوں میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔