امریکی حملوں کے بعد ایران مذاکرات پر زیادہ آمادہ ہے، مارکو روبیو کا دعویٰ

ایرانی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا، اسی لیے تہران جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر بات چیت کے لیے تیار ہے، امریکی وزیر خارجہ
شائع 02 اگست 2026 09:27am

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی حملوں کے بعد ایران جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سمیت اہم معاملات پر مذاکرات کے لیے پہلے سے زیادہ آمادہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیوں نے ایران کی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے خطے کی صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے فوجی حملوں کے بعد ایران مذاکرات کے لیے زیادہ تیار دکھائی دے رہا ہے، جن میں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔

روبیو نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ایران کی بحریہ، فضائیہ، میزائل دفاعی نظام، میزائل لانچرز اور ہتھیار بنانے کی تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ اس کی دفاعی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرون موجود ہیں اور وہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ان کے بقول ایران اب اس روایتی دفاعی تحفظ سے محروم ہو چکا ہے جس پر وہ پہلے انحصار کرتا تھا۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ یہی تبدیلی اس بات کی بڑی وجہ ہے کہ ایران اب جوہری ہتھیاروں سے متعلق معاہدے اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر مذاکرات کے لیے نہ صرف تیار ہے بلکہ بعض معاملات میں اس کا خواہاں بھی نظر آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اب ایران سے ”کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی پوزیشن“ سے بات کر رہا ہے، جس کے باعث مذاکرات کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

Read Comments